سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 836 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 836

۸۳۶ قبائل مشکل وعرینہ کی غداری اور مسلمانوں کے لئے یہ دن بہت خطرناک تھے کیونکہ قریش اور یہود کی انگیخت سے سارا ملک ان کی عداوت کی آگ سے اس کا ہولناک انجام شوال ۶ ہجری شعلہ زن ہور ہا تھا۔اور اپنی جدید پالیسی کے ماتحت انہوں نے یہ بھی فیصلہ کیا تھا کہ مدینہ پر باقاعدہ حملہ کرنے کی بجائے در پردہ طریقوں سے نقصان پہنچایا جائے اور چونکہ دھوکا دہی اور غداری عرب کے وحشی قبائل کے اخلاق کا حصہ تھی اس لئے وہ ہر جائز و نا جائز طریق سے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے درپے تھے۔چنانچہ جس واقعہ کا ذکر ہم اب کرنے لگے ہیں وہ اسی ناپاک سلسلہ کی ایک کڑی تھی جو ایک ہولناک رنگ میں اپنے انجام کو پہنچی۔تفصیل اس کی یہ ہے کہ شوال ۶ ہجری میں قبیلہ شکل اور عُرینہ کے چند آدمی " جو تعداد میں آٹھ تھے۔مدینہ میں آئے اور اسلام کے ساتھ محبت اور موانست کا اظہار کر کے مسلمان ہو گئے۔کچھ عرصہ کے قیام کے بعد انہیں مدینہ کی آب و ہوا میں معدہ اور تلی وغیرہ کی جو کچھ شکایت پیدا ہوئی تو وہ اسے بہانہ بنا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی تکلیف بیان کر کے کہا کہ یا رسول اللہ ! ہم جنگلی لوگ ہیں اور جانوروں کے ساتھ رہنے میں عمر گزاری ہے اور شہری زندگی کے عادی نہیں اس لئے بیمار ہو گئے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تمہیں یہاں مدینہ میں تکلیف ہے تو مدینہ سے باہر جہاں ہمارے مویشی رہتے ہیں وہاں چلے جاؤ اور اونٹوں کا دودھ وغیرہ پیتے رہو۔اچھے ہو جاؤ گے۔اور ایک روایت میں یہ ہے کہ انہوں نے خود کہا کہ یارسول اللہ اگر آپ ہمیں اجازت دیں تو ہم مدینہ سے باہر جہاں آپ کے مویشی رہتے ہیں وہاں چلے جاتے ہیں جس کی آپ نے اجازت دے دی بہر حال وہ آنحضرت سے اجازت لے کر مدینہ سے باہر اس چراگاہ میں چلے گئے جہاں مسلمانوں کے اونٹ رہتے تھے۔جب ان بدبختوں نے یہاں اپنا ڈیرا جمالیا اور آگے پیچھے نظر ڈال کر سارے حالات معلوم کر لئے اور کھلی ہوا میں رہ کر اور اونٹوں کا دودھ پی کر خوب موٹے تازے ہو گئے تو ایک دن اچانک اونٹوں کے رکھوالوں پر حملہ کر کے انہیں مار دیا اور مارا بھی اس بے دردی سے کہ پہلے تو جانوروں کی طرح ذبح کیا اور پھر جب ابھی کچھ جان باقی تھی تو ان کی زبانوں میں صحرا کے تیز کانٹے چھوئے تا کہ جب وہ منہ سے ابن سعد مسلم کتاب القسامة ابو عوانه بروایت زرقانی جلد ۲ صفحه ۱۷۳ : بخاری کتاب المغازی بخاری کتاب المغازی و کتاب المحاربين