سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 837
۸۳۷ کوئی آواز نکالیں یا پیاس کی وجہ سے تڑپیں تو یہ کانٹے ان کی تکلیف کو اور بھی بڑھا دیں لیے اور پھر ان ظالموں نے اسی پر بس نہیں کی بلکہ گرم سلائیاں لے کر ان نیم مردہ مسلمانوں کی آنکھوں میں پھیریں نے اور اس طرح یہ بے گناہ مسلمان کھلے میدان میں تڑپ تڑپ کر جان بحق ہو گئے۔ان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ذاتی خادم بھی تھا جس کا نام سیسار تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کے چرانے پر مقرر تھا۔کے جب یہ درندے اس وحشیانہ رنگ میں مسلمانوں کا کام تمام کر چکے تو پھر سارے اونٹوں کو اکٹھا کر کے انہیں ہنکالے گئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ حالات ایک رکھوالے نے پہنچائے جو اتفاق سے بیچ کر نکل آیا تھا جس پر آپ نے فورا ہیں صحابہ کی ایک پارٹی تیار کر کے ان کے پیچھے بھجوادی اور گو یہ لوگ کچھ فاصلہ طے کر چکے تھے مگر خدا کا یہ فضل ہوا کہ مسلمانوں نے پھرتی کے ساتھ پیچھا کر کے انہیں جا پکڑا اور رسیوں سے باندھ کر واپس لے آئے۔اس وقت تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ احکام نازل نہیں ہوئے تھے کہ اگر کوئی شخص اس قسم کی حرکت کرے تو اس کے ساتھ کیا سلوک ہونا چاہئے چنانچہ آپ نے اپنے قدیم اصول کے ماتحت کہ جب تک اسلام میں کوئی نیا حکم نازل نہ ہو اہل کتاب کے طریق پر چلنا چاہئے یا موسوی شریعت کے مطابق ھے حکم دیا کہ جس طرح ان ظالموں نے مسلمان رکھوالوں کے ساتھ سلوک کیا ہے اسی طرح قصاصی اور جوابی صورت میں ان کے ساتھ کیا جائے تا کہ یہ سزا دوسروں کے لئے عبرت ہو۔چنانچہ خفیف تغیر کے ساتھ اسی رنگ میں مدینہ سے باہر کھلے میدان میں ان لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔مگر اسلام کے لئے خدا نے دوسری تعلیم مقدر کر رکھی تھی چنانچہ آئندہ جوابی اور قصاصی صورت میں بھی مثلہ کی سز منع کر دی گئی یعنی اس بات کو نا جائز قرار دیا گیا کہ کسی رنگ میں مقتول کے جسم کو بگاڑا جائے یا انتقامی رنگ میں اعضاء کوٹکڑے ٹکڑے کیا جائے وغیر ذالک۔اس واقعہ کے متعلق ہمیں کچھ زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ بہر حال اس معاملہ میں ظلم کی ابتدا ل ابن ہشام وابن سعد مسلم کتاب القسامة باب حکم المحاربین اور ترمذی کتاب الطہارة ما جاء فی بول ما يوكل لحمه : ابن ہشام بخاری کتاب اللباس باب الفرق ه خروج ۲۱ و ا حبار ۲۴ واستثناء ۱۹ : بخاری کتاب المغازی قصه مشکل وعرینه وابن سعد حالات سر یه کرز بن جابر وسر ولیم میور صفحه۳۵۰