سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 830
۸۳۰ دوستوں سے ملنے، دوستوں سے جدا ہونے شادی کرنے ، بیوی سے ملنے، نیا چاند دیکھنے، بارش کے برسنے، بارش کے رکنے ، آندھی کے چلنے ، گھر سے نکلنے ،گھر میں داخل ہونے ، موسم کا پہلا پھل کھانے ، بیمار کی تیمارداری کرنے کسی مسلمان کی نعش کے پاس جانے کسی مسلمان کو دفن کرنے ، غرض زندگی کے ہر حرکت وسکون کو کسی نہ کسی دعا کے ساتھ وابستہ کر دیا ہے اور یہ دعا محض رسمی دعا نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں سے نکلنے والی زندہ چیز ہے جو ایک سچا مسلمان کامل یقین اور حضور قلب کے ساتھ اختیار کرتا ہے۔کاش دنیا اس عظیم الشان خزانہ کی قدر کرے۔اہل خیبر کی طرف سے مزید خطرہ ابو رافع سلام بن ابی الحقیق کے قتل کے بعد خیبر کے یہودیوں نے اپنی سرداری کا تاج ایک ایسے شخص کے سر پر۔اور قتل اسیر بن رزام شوال ۶ ہجری رکھا جو اسلام کی عداوت میں ابورافع سے کم نہیں تھا۔اس شخص کا نام اسیر بن رزام تھا۔اس ظالم نے اپنے نئے عہدہ پر فائز ہوتے ہی اس کام کی تکمیل کا تہیہ کرلیا جسے ابورافع ادھورا چھوڑ کر مر گیا تھا۔چنانچہ سب سے پہلا کام اسیر نے یہ کیا کہ تمام یہودیوں کو ایک جگہ جمع کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ایک سخت اشتعال انگیز تقریر کی اور کہا کہ اب تک یہودی رؤساء نے جو تدابیر اسلام کے خلاف اختیار کی ہیں وہ درست نہیں تھیں۔اب میں ایک نیا طریقہ اختیار کروں گا اور قبائل غطفان وغیرہ کی مدد سے ایک ایسی چال چلوں گا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے گھر کی بنیاد میں نقب لگ جائے گی۔اس کے بعد اس بدبخت نے نجدی قبائل غطفان وغیرہ کا دورہ کرنا شروع کیا اور اپنی اشتعال انگیز تقریروں سے ان میں ایسی آگ لگادی کہ وہ پھر حملہ آور ہونے کے لئے جمع ہونے لگے۔۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان حالات سے اطلاع ہوئی تو آپ نے فوراً اپنے ایک انصاری صحابی عبداللہ بن رواحہ کو تین دوسرے صحابیوں کی معیت میں خیبر کی طرف روانہ فرمایا اور انہیں تاکید فرمائی کہ خفیہ خفیہ جائیں اور سارے حالات معلوم کر کے جلد تر واپس آجا ئیں ہے چنانچہ عبد اللہ بن رواحہ اور ان کے ساتھی گئے اور خفیہ خفیہ تمام حالات اور کوائف کا پتہ لے کر اور یہ تصدیق کر کے کہ یہ خبریں درست ہیں واپس آگئے بلکہ عبداللہ بن رواحہ اور ان کے ساتھیوں نے ایسی ہوشیاری سے کام لیا کہ خیبر کے ابن سعد حالات سریہ عبداللہ بن رواحہ زرقانی جلد ۲ صفحہ ۷۰ ا حالات سریہ عبداللہ بن رواحہ ابن سعد جلد ۲ صفحه ۶۶ و ابن هشام جلد ۲ صفحه ۸۲ ۸۳ ۴ : ابن سعد وزرقانی