سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 829 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 829

۸۲۹ -1 دعا میں یہ طاقت حاصل ہے کہ وہ خدائی قضا وقد رکو بھی بدل سکتی ہے یعنی اگر خدا کے عام قانون قدرت کے ماتحت کوئی بات ہونے والی ہو اور پھر اس کا کوئی پاک بندہ اس سے اس بات کے ٹل جانے کی دعا کرے تو خدا تعالیٰ اپنی اس عام تقدیر کو بدل کر اپنے بندے کی دعا کے مطابق خاص تقدیر جاری کر دیتا ہے۔مگر خدا کا یہ ازلی فیصلہ ہے کہ وہ اپنی کسی سنت یا وعدہ کے خلاف کوئی بات نہیں کرتا۔پس ایسی دعا ئیں جو اس کی کسی سنت یا وعدہ کے خلاف ہوں قبول نہیں ہوتیں۔اسی طرح ایسی دعا ئیں جو گناہ یا قطع رحمی کا دروازہ کھولتی ہوں قبول نہیں ہوتیں۔ے۔دعا کے لئے جلد بازی سم قاتل ہے بلکہ صبر اور استقلال کے ساتھ دعا میں لگے رہنا چاہئے جولوگ کچھ وقت دعا کر کے پھر تھک جاتے اور اس قسم کے الفاظ بولنے لگ جاتے ہیں کہ ہم نے بہت -^ -9 دعائیں کر کے دیکھ لیا خدا ہماری نہیں سنتا ان کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔دعا میں شک یا عدم یقین یا مایوسی کے الفاظ ہرگز استعمال نہیں کرنے چاہئیں بلکہ یقین اور عزم کے ساتھ یہ امید رکھتے ہوئے کہ خدا ہماری سنے گا دعا کرنی چاہئے۔خدا دعا قبول کرنے یارد کرنے میں آزاد ہے۔اس پر کسی کا دباؤ یا جبر نہیں۔جب وہ کسی دعا کو قبولیت کے قابل خیال کرتا ہے تو اسے قبول کرتا ہے اور جب قبولیت کے قابل نہیں سمجھتا تو اسے رد کر دیتا ہے مگر بظاہر رد کرنے کی صورت میں بھی اگر دعا کرنے والا مستحق ہے تو خدا کسی اور رنگ میں اس کی تلافی فرما دیتا ہے خواہ اسی دنیا میں خواہ آخرت میں۔دعا تمام عبادتوں کی جان اور روح رواں ہے اور جو عبادت دعا سے خالی ہے وہ اس ردی اور کھوکھلی ہڈی کی طرح ہے جو گودے سے خالی ہو۔اس نوٹ کو ختم کرنے سے پہلے یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ اسلام نے نہ صرف دعا کے مسئلہ کو تشریح اور تفصیل کے ساتھ بیان کر کے اس پر خاص زور دیا ہے بلکہ مسلمانوں کو دعا کا عملی سبق دینے اور دعا کا عادی بنانے کے لئے انسان کی ہر حرکت و سکون کے ساتھ کوئی نہ کوئی دعا مقرر کر دی ہے تا کہ اس کی کوئی گھڑی خدا کی یاد سے خالی نہ رہے مثلاً کسی کے پیدا ہونے کسی کے وفات پانے ،مسجد میں داخل ہونے ، مسجد سے نکلنے ،سفر میں جانے ، سفر سے واپس آنے ، سواری پر چڑھنے ،سواری سے اتر نے ، کھانا شروع کرنے ، کھانا ختم کرنے ، بستر پر جانے ، بستر سے اٹھنے، پہاڑی پر چڑھنے ، وادی میں اتر نے،