سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 828 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 828

۸۲۸ یعنی ”خدا فرماتا ہے کہ میرا بندہ میرے متعلق جس طرح کا گمان رکھتا ہے میں اسی کے مطابق اس سے سلوک کرتا ہوں۔“ یہ نکتہ بھی بے شمار کامیابیوں کی کلید ہے مگر افسوس ہے کہ اکثر لوگ اس کی حقیقت سے ناواقف ہیں۔بہر حال دعا کے لئے عزم اور یقین کی کیفیت ضروری ہے اور عام حالات میں شک کے الفاظ میں دعا کرنا جائز نہیں مگر یہ عدم جواز اسی صورت میں ہے کہ دعا کرنے والا عدم یقین یا عدم توجہ کی وجہ سے ایسا طریق اختیار کرے لیکن اگر وہ خاص حالات میں توجہ اور یقین کے مقام پر قائم رہتے ہوئے پھر کسی معاملہ میں اپنے فیصلہ کو خدا پر چھوڑ دے اور اس کی وجہ سے اس کی حالت میں بے اعتمادی یا بے توجہی یا عدم یقین کا رنگ پیدا نہ ہو بلکہ تو کل علی اللہ اور تفویض الی اللہ کا رنگ ہو تو ایسی صورت میں اس طریق پر دعا کرنا بھی نا جائز نہیں ہوگا۔دعا کے متعلق اسلامی تعلیم کا خلاصہ مذکورہ بالا آیات واحادیث سے مسئلہ دعا کے متعلق مندرجہ ذیل اصولی باتیں ثابت ہوتی ہیں۔-1 لد ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ ہر حال میں خدا سے دعا کرتا رہے خواہ اسے خوف کی حالت در پیش ہو یا طمع کی خواہ وہ جنگی کی حالت میں ہو یا آرام میں۔خواہ وہ کسی مصیبت سے بچنا چاہتا ہو یا کسی بھلائی کے حاصل کرنے کا آرزومند ہو۔دعا ہر حالت میں ہونی چاہئے تضرع کی حالت میں بھی اور خفیہ حالت میں بھی یعنی اس وقت بھی کہ جب انسان پر افکار کا ایسا ہجوم ہو کہ وہ اپنے جذبات کو قابو میں نہ رکھ سکتا ہو اور وہ پھوٹ پھوٹ کر باہر آتے ہوں اور اس وقت بھی کہ جب وہ اپنے جذبات کو قابو میں رکھ کر صبر اور خاموشی کے ساتھ اپنی التجا کو پیش کر سکتا ہو۔دعا کی قبولیت کے لئے سچا ایمان اور نیکی اور طہارت اور اطاعت اور عبودیت ضروری ہیں۔جولوگ خدا کی آواز پر کان دھرتے ہیں خدا بھی ان کی آواز کو زیادہ توجہ اور زیادہ محبت کے ساتھ سنتا ہے۔ناشکر لوگوں کی دعائیں جو خدا کے انعاموں پر شکر گزاری کا طریق اختیار نہیں کرتے اور نیز ان لوگوں کی دعائیں جو خدائی نظام کے باغی ہیں درجہ قبولیت کو نہیں پہنچتیں بلکہ صداے صحرا کی طرح فضا میں گونج کرختم ہو جاتی ہیں۔