سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 822 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 822

۸۲۲ بلکہ دعا کی منظوری بعض شرائط کے ساتھ مشروط ہے جنہیں ہم انشاء اللہ آگے چل کر درج کریں گے۔اس اصولی نوٹ کے بعد ہم مسئلہ دعا کے متعلق اپنے ناظرین کی تنویر کے لئے چند قرآنی آیات اور احادیث پیش کرتے ہیں تا کہ انہیں معلوم ہو سکے کہ اس بارے میں اسلامی تعلیم کا خلاصہ کیا ہے سو جاننا چاہئے کہ دعا ایک عربی لفظ ہے جس کے معنی کسی کو بلانے یا پکارنے کے ہیں اور گو پکار نے اور بلانے میں زیادہ غالب مفہوم سوال کرنے اور مانگنے کا ہوتا ہے مگر اپنے وسیع معنوں کے لحاظ سے دعا ہر رنگ کا پکارنا شامل سمجھا جائے گا خواہ یہ پکارنا سوال یا طلب نصرت کی غرض سے ہو یا کسی اور غرض سے ہو۔مثلاً اگر کوئی شخص خدا کو محض اپنی محبت اور عبودیت کے جذبات کے اظہار کے لئے مخاطب کرتا ہے تو یہ بھی ایک نوع دعا کی ہے خواہ اس میں کوئی پہلو سوال یا استعانت کا نہ پایا جائے مگر ان وسیع معنوں کے علاوہ دعا کے لفظ کو اصطلاحاً ایک مخصوص اور محدود مفہوم بھی حاصل ہو گیا ہے جو سوال کرنے اور مانگنے اور طلب نصرت سے تعلق رکھتا ہے اور اس جگہ یہی مؤخر الذکر مفہوم ہمارے مدنظر ہے۔دعا کامیابی کا ایک روحانی ذریعہ ہے سب سے پہلے اسلام مسلہ دعا کے تعلق یہ تعلیم دیتا ہے کہ دعا صرف ایک عبادت ہی نہیں ہے بلکہ حقیقی سوال کا رنگ بھی رکھتی ہے اور اللہ تعالیٰ حسب حالات اس سوال کو قبول کرتا اور اس پر نتیجہ مترتب فرماتا ہے اور مسلمانوں کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کبھی اس روحانی ہتھیار کی طرف سے غافل نہ ہوں بلکہ اسے ہمیشہ اپنے استعمال میں رکھیں۔دراصل اسلام میں دعا کے متعلق نظریہ یہ ہے کہ جس طرح خدا نے دنیا میں مختلف مقاصد کے حصول کے لئے مختلف ذرائع مقرر فرمائے ہیں اور خدا کا یہ منشا ہے کہ لوگ حسب حالات ان ذرائع اور اسباب کو اختیار کریں اور ان سے فائدہ اٹھا ئیں اور دنیا میں ساری ترقی کا راز انہی اسباب کے استعمال میں مخفی ہے اسی طرح خدا تعالیٰ نے ان مادی اسباب کے علاوہ ایک روحانی سبب بھی مقرر فرمایا ہے اور یہ روحانی سبب دعا ہے۔اور اللہ تعالیٰ کا یہ منشا ہے کہ اس کے بندے اپنے کاموں میں ظاہری اور مادی ذرائع کے ساتھ ساتھ دعا یعنی روحانی ذریعہ کو بھی استعمال کریں۔اور اس منشاء الہی میں دو ہری غرض مدنظر ہے۔اول: یہ کہ تا محض مادی اسباب میں گھرے رہنے کی وجہ سے لوگوں کی نظر مادیت کے ماحول میں محصور ہوکر نہ رہ جائے اور وہ ان مادی اسباب کو ہی اپنا آخری سہارا نہ سمجھنے لگیں۔بلکہ ان اسباب کے ساتھ ساتھ ان اسباب کے پیدا کرنے والے خدا کو بھی یاد رکھیں جس کے سہارے پر یہ سارے