سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 821
۸۲۱ وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا یعنی ” جولوگ ہمارے معاملہ میں پوری پوری اور صحیح صحیح کوشش کرتے ہیں ہم ضرور بالضروران کے لئے اپنے رستے کھول دیتے ہیں۔“ اب ناظرین خود غور کریں کیا انہوں نے اس معاملہ میں پوری پوری اور صحیح صحیح کوشش سے کام لیا ہے؟ یعنی کیا انہوں نے کم از کم اس معاملہ میں ایسی کوشش کی ہے جو وہ دنیا میں اہم مقاصد کے لئے کیا کرتے ہیں؟ اگر انہوں نے ایسی کوشش نہیں کی اور یقینا نہیں کی تو انصاف کا یہ تقاضا ہے کہ وہ اپنی زبان اور قلم کو بند رکھیں اور ان لوگوں کی شہادت کے متعلق حسن ظنی سے کام لیں جو اس میدان میں اپنی زندگیاں وقف رکھتے ہیں اور جن کے حالات اس بات کے ضامن ہیں کہ وہ کم از کم مفتری یا مجنون نہیں۔دعا کا مسئلہ ہستی باری تعالی در حقیقت اصل سوال تو یہ ہے کہ کیا واقعی اس دنیا کا کوئی خدا ہے جس نے اسے پیدا کیا ہے اور جو اس سارے کارخانہ عالم کو اپنے دست کے مسئلہ کی فرع ہے قدرت سے چلا رہا ہے۔اگر تو ایسا خدا ہے اور وہ دنیا کو پیدا کر کے اپنے عرش الوہیت سے معزول نہیں ہو گیا اور نہ ہی اس کی طاقتیں معطل ہوئی ہیں تو پھر دعا کا مسئلہ عقل مند کے نزدیک قابل اعتراض نہیں ہو سکتا۔صرف سوال یہ رہ جاتا ہے کہ آیا کوئی مخصوص دعا عملاً قبولیت کے درجہ کو پہنچی ہے یا نہیں اور آیا اس کا کوئی معین نتیجہ نکلا ہے یا نہیں؟ سو یہ بات مشاہدہ کے میدان سے تعلق رکھتی ہے جس میں استدلالی براہین کا دخل نہیں۔مجھے اپنے اصل مضمون سے ہٹنا پڑتا ہے ورنہ میں سینکڑوں مثالیں دے کر ثابت کر سکتا ہوں کہ ہمارا خدا ایک نام کا بادشاہ نہیں اور نہ ہی وہ اپنے پیدا کردہ قانون کا غلام ہے کہ اس میں کسی صورت میں بھی کوئی تبدیلی نہ کر سکے۔بیشک جیسا کہ ہم آگے چل کر بیان کریں گے وہ اپنی سنت اور وعدہ کے خلاف کوئی کام نہیں کرتا مگر دوسری طرف وہ ایک زندہ اور متصرف خدا ہے جو اپنے بندوں کی دعاؤں کو سنتا اور ان پر یقینی نتائج مترتب کرتا ہے مگر ظاہر ہے کہ جس طرح وہ اپنے قانون کا غلام نہیں اسی طرح وہ اپنے بندوں کا بھی غلام نہیں اور ضروری نہیں کہ ہر دعا کومنظور کرے ل : سورة العنكبوت : ۷۰ یہ مثالیں کم و بیش ہر مذہب میں پائی جاتی ہیں کیونکہ اپنی اصل کے لحاظ سے تمام مذاہب جن کی بنیاد الہام الہی پر ہے خدا کی طرف سے ہیں اور اپنے اپنے زمانہ میں خدائی نصرت کا مشاہدہ کر چکے ہیں گواب وہ غلط رستہ پر پڑ کر اس نصرت سے محروم ہو چکے ہوں۔