سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 820 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 820

۸۲۰ رکھتے ہیں اور ساری دنیا اس طریق فیصلہ کو قبول کرتی ہے حتی کہ سائنس کے جدید مشاہدات بھی خواہ ان میں کس قدر ہی غیر متوقع اور عجیب و غریب حالات کا انکشاف ہو کم از کم ابتداء سائنسدانوں کی شہادت کے ذریعہ ہی قبول کئے جاتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ سمجھ دار اور صادق القول لوگوں کی شہادت کے ہوتے ہوئے جو مختلف قوموں اور مختلف زمانوں میں یکساں پائی جاتی ہے۔دعا کی قبولیت اور معجزات و خوارق کے وجود سے انکار کیا جائے۔مسئلہ دعا اور سائنس کا مشترکہ اصول اور اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ سائنس کی دریافتیں تو ایسی ہیں کہ ہر شخص جوان کا علم حاصل کرنا چاہے اور جو رستہ اس علم کے حصول کے لئے مقرر ہے اسے اختیار کرے اور ان آلات اور ذرائع کو استعمال میں لائے جوان امور کے معلوم کرنے یا تصدیق کرنے کے لئے ضروری ہیں تو وہ انہیں معلوم کرسکتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اے ہمارے بھٹکے ہوئے بھائیو! خدا تمہاری آنکھیں کھولے بعینہ یہی صورت دعا اور معجزات اور خوارق کے معاملہ میں بھی پائی جاتی ہے۔یعنی ان پر بھی یہی ازلی قانون چسپاں ہوتا ہے کہ جو شخص ان کی حقانیت کے تجربہ کرنے کا سچا خواہش مند ہو اور اس رستہ پر گامزن ہو جو اس علم کے حصول کا رستہ ہے اور ان ذرائع کو استعمال کرے جو اس حقیقت کی دریافت کے لئے مقرر ہیں اور اس کوشش میں وہ کسی غلط رستہ کو اختیار کر کے بھٹک نہ جائے تو ناممکن ہے کہ وہ ان صحیح نتائج تک پہنچنے سے محروم رہے جو ہر بچے اور صحیح طریق پر کام کرنے والے کے لئے مقدر ہیں خواہ وہ سائنس کے میدان سے تعلق رکھتا ہو یا کہ روحانیت کے میدان سے کیونکہ دونوں کا منبع خدا کی ذات ہے اور دونوں ایک ہی ازلی حکومت کے نیچے ہیں مگر افسوس ہے کہ دنیا کے علوم کے متعلق تو لوگ یہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ بغیر صحیح کوشش اور صحیح جد وجہد کے حاصل نہیں ہو سکتے اور اس لئے وہ دن رات اس کی کوشش میں لگے رہتے ہیں اور اپنی غلطیوں کی وجہ سے میدان میں صد ہانا کامیاں بھی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی ہمت نہیں ہارتے مگر روحانی میدان میں وہ صرف دل کی خواہش یا منہ سے نکل کر اڑ جانے والے الفاظ سے تمام مراحل طے کرنا چاہتے ہیں اور جب اس طرح ان کی خواہش پوری نہیں ہوتی اور ان کا مقصود انہیں حاصل نہیں ہوتا تو وہ مایوس ہو کر اس خواہش کو ہی خیر باد کہہ دیتے ہیں اور اس مقصود کو ایک وہمی چیز قرار دینے لگ جاتے ہیں یقیناً کسی اہم مقصد کے حاصل کرنے کا یہ طریق نہیں۔قرآن شریف میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے: