سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 817 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 817

۸۱۷ کی تقدیر خاص کا کرشمہ تھا جو اس نے اپنے رسول کی دعا اور برکت کے نتیجہ میں ظاہر فرمایا اور اس صورت میں اس کی تشریح اس اصولی بحث کے نیچے آئے گی جو ہم اس کتاب کے حصہ دوم میں معجزہ کے عنوان کے تحت درج کر چکے ہیں اور جس کے اعادہ کی اس جگہ ضرورت نہیں۔صرف اس قدر اشارہ کافی ہے کہ اسلام کی تعلیم کی رو سے خدا ہر بات پر قادر ہے اور نہ صرف قادر ہے بلکہ اپنے خاص بندوں کے ذریعہ وہ اپنی تقدیر عام کو بدل کر اپنی خاص قدرت کا اظہار بھی کرتا رہتا ہے جیسا کہ ہر نبی کے زمانہ میں اس کی مثالیں پائی جاتی ہیں۔صرف شرط یہ ہے کہ کوئی بات خدا کی سنت یا وعدہ یا صفت کے خلاف نہ ہو اور اس میں شہود کا ایسا رنگ نہ پایا جائے جو ایمان کی غرض وغایت کو باطل کر دے۔ابورافع کے قتل کے زمانہ کے متعلق روایات میں اختلاف ہے۔بخاری نے زہری کی اتباع میں اسے معتین تاریخ دینے کے بغیر مطلقاً کعب بن اشرف کے قتل کے بعد بیان کیا ہے جو بہر حال درست ہے اور غالبا ان واقعات کو متصل کر کے اس لئے بیان کیا ہے کہ ان کی نوعیت ایک سی ہے۔طبری نے اسے ۳ ہجری میں کعب بن اشرف کے واقعہ کے بعد رکھا ہے۔واقدی نے ۴ ہجری میں بیان کیا ہے۔ابن ہشام نے بروایت ابن اسحاق اسے مطلقاً غزوہ بنو قریظہ کے بعد رکھا ہے جو اواخر ۵ ہجری میں ہوا تھا اور اس طرح اسے اوائل ۶ ہجری میں سمجھا جاسکتا ہے مگر ابن سعد نے صراحتاہ ہجری میں بیان کیا ہے اور عام مؤرخین نے ابن سعد کی اتباع کی ہے۔واللہ اعلم مدینہ میں بارش کا قحط اور آنحضرت اسی سال ماہ رمضان میں مدینہ اور اس کے گردنواح میں دیر تک بارش نہ ہونے کی وجہ سے قحط کے آثار پیدا صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائے استسقاء ہونے لگے جس پر صحابہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی تکلیف بیان کی اور درخواست کی کہ ان کے لئے بارش کی دعا فرمائی جائے اس پر آپ صحابہ کی ایک جماعت کو ساتھ لے کر مصلی یعنی عیدگاہ میں تشریف لے گئے اور وہاں قبلہ رخ ہو کر بارش کے لئے دعا فرمائی اور اس کے بعد خدا کے فضل سے بہت جلد بارش ہوگئی۔اس کے بعد اسلام میں استسقاء کی نماز کا با قاعدہ آغاز ہو گیا۔اس نماز کی یہ خصوصیت ہے کہ اس میں عام نمازوں کی طرح امام مقتدیوں کے آگے تو کھڑا ہوتا ہے مگر قولی دعا کے علاوہ جس میں انسانوں اور جانوروں کی تکلیف کا ذکر : سيرة خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم حصہ دوم فتح الباری جلد ۲ صفحه ۴۱۵، ۴۲۵ وخمیس جلد ۲ صفحه ۱۵ ۲ : طبری جلد ۳ صفحه ۱۵۵۶