سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 800
اسلام با نگ بلند یہ تعلیم دیتا ہے کہ جس طرح خدا نے اپنی مادی نعمتوں کو ہر قوم اور ہر ملک پر وسیع کر رکھا ہے اور کسی ایک قوم یا ایک ملک کے ساتھ مخصوص نہیں کیا مثلاً اس کا سورج ساری دنیا کو روشنی پہنچاتا ہے۔اس کی ہوا سارے کرہ ارض کو یکساں گھیرے ہوئے ہے۔اس کا پانی ساری دنیا کو سیراب کرتا ہے وغیرہ وغیرہ۔اسی طرح خدا نے اپنی روحانی نعمتوں کو بھی کسی خاص قوم یا خاص ملک تک محدود نہیں کیا بلکہ ہر قوم اور ہر ملک کو اس سے حصہ دیا ہے۔کیونکہ اسلام کی تعلیم کے مطابق دنیا کا خدا کسی خاص قوم یا خاص ملک کا خدا نہیں بلکہ ساری دنیا اور ساری قوموں کا خدا ہے اور وہ ایک ایسا مقسط اور عادل حکمران ہے کہ سب مخلوق کو ایک نظر سے دیکھتا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے: وَانْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ یعنی ”دنیا میں کوئی قوم ایسی نہیں گزری جس کی طرف خدا نے اپنی طرف سے کوئی رسول نہ بھیجا ہوتا کہ وہ انہیں ہوشیار کر کے نیکی بدی کا رستہ دکھا دے اور ترقی کی راہیں بتا دے۔“ یہ الفاظ کیسے مختصر ہیں مگر غور کرو تو ان کے اندر روحانی اور دینی مساوات کا ایک عظیم الشان فلسفہ مخفی ہے جس نے دنیا کی ساری قوموں کو خدا کی توجہ کا یکساں حق دار قرار دے کر ایک لیول پر کھڑا کر دیا ہے اور اس خیال کو جڑ سے کاٹ کر رکھ دیا ہے کہ خدا صرف بنی اسرائیل کا خدایا صرف آریہ ورت کا خدا ہے اور دوسری قوموں کے لئے اس کی محبت اور انصاف کی آنکھ بالکل بند ہے۔الغرض اسلام نے روحانی مساوات کے میدان میں پہلا اصول یہ قائم کیا ہے کہ کلام الہی اور نبوت ورسالت کا وجود کسی خاص قوم یا خاص ملک کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ اپنے اپنے وقت میں ہر قوم اس عظیم الشان روحانی انعام سے حصہ پاتی رہی ہے۔کیونکہ ہر قوم خدا کی پیدا کردہ ہے اور خدا سے یہ بعید ہے کہ ایک ظالم باپ کی طرح اپنے ایک بیٹے کو حصہ دے اور دوسرے کو ہمیشہ کے لئے محروم کر دے۔اسی ضمن میں نجات اور قرب الہی کے حصول کا سوال آتا ہے۔اکثر قوموں نے دنیوی اور اخروی امور میں بھی گویا ایک اجارہ داری کا رنگ اختیار کر رکھا ہے اور ایک خاص نسلی طبقہ کو خدا کا مقرب اور نجات کا مستحق قرار دے کر باقی سب کو عملاً محجوب اور ملعون گردانا ہے جسے کبھی بھی نجات اور قرب الہی کی ٹھنڈی ہوا نہیں پہنچ سکتی۔مثلاً یہودی لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ صرف ایک اسرائیلی نسل کا انسان ہی نجات کا مستحق ہے اور باقی سب لوگ خواہ وہ کیسے ہی نیک ہوں جہنم کا ایندھن ہیں۔اسی طرح عیسائیوں نے گونسلی رنگ سورة فاطر ۲۵ :