سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 799 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 799

۷۹۹ یہ الفاظ جس بلند اور شاندار روح کا اظہار کر رہے ہیں وہ کسی تشریح کی محتاج نہیں مگر افسوس ہے کہ دنیا نے اپنے اس عظیم الشان محسن کی قدر نہیں کی۔خلاصہ کلام یہ کہ اسلام میں دولت کی تقسیم کے متعلق چار بنیادی اصول تسلیم کئے گئے ہیں: اول تقسیم ورثہ اور نظام زکوۃ کے قیام اور سود اور جوئے کی حرمت کے ذریعہ ملکی دولت کو چند ہاتھوں میں جمع ہونے سے بچایا جائے۔دوم : مگر دولت پیدا کرنے کے انفرادی حق کو قائم رکھا جائے تا کہ کام کرنے کا ذاتی محرک بھی قائم رہے اور افراد کے دماغ منجمد نہ ہونے پائیں۔سوم : جولوگ با وجود ان ذرائع کے کسی خاص معذوری کی وجہ سے اپنی اقل ضروریات کا سامان بھی پیدا نہ کرسکیں ان کی ضروریات کے پورا کرنے کا حکومت انتظام کرے۔چہارم : خاص ہنگامی حالت میں جب کہ خوراک کی خطرناک قلت پیدا ہو جائے۔تمام انفرادی ذخیروں کو جمع کر کے ایک مرکزی قومی ذخیرہ قائم کر لیا جائے تا کہ سب لوگوں کو اقل خوراک کا مساویانہ راشن ملتا ر ہے اور یہ نہ ہو کہ ملک کا ایک حصہ تو عیش اڑائے اور دوسرا قوت لا یموت سے بھی محروم ہو۔دینی اور روحانی امور میں مساوات اس کے بعد ہم اس مساوات کی بحث کو لیتے ہیں جو دینی اور روحانی امور سے تعلق رکھتی ہے سو جاننا چاہئے کہ گو لا مذہب لوگوں اور دنیا داروں کو اس میدان کی اہمیت پر اطلاع نہ ہو مگر قرب الہی کی تڑپ رکھنے والوں اور نجات اخروی کے متلاشیوں کے نزدیک یہ میدان دنیا کی زندگی سے بھی بہت زیادہ اہم اور بہت زیادہ قابل توجہ ہے اور الحمد للہ کہ اس میدان میں بھی اسلامی تعلیم نے صحیح مساوات کے تر از وکو پوری طرح برابر رکھا ہے۔سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ جہاں دوسرے مذاہب یہ تعلیم دیتے ہیں کہ خدا کے کلام کا نزول اور اس کے نبیوں اور رسولوں کا ظہور صرف خاص خاص قوموں کے ساتھ ہی مخصوص رہا ہے اور دنیا کی دوسری قو میں اس عظیم الشان روحانی نعمت سے کلی طور پر محروم رہی ہیں مثلاً یہودی لوگ اپنے سوا کسی دوسری قوم کو اس روحانی انعام کا حق دار نہیں سمجھتے اور اسی طرح ہندو لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ خدا کا کلام صرف آریہ ورت تک محدود رہا ہے اور کسی دوسرے ملک اور دوسری قوم نے اس سے حصہ نہیں پایا اور عملاً عیسائی قوم بھی بنی اسرائیل کے باہر کسی نبی اور رسول وغیرہ کی قائل نہیں۔الغرض جہاں دنیا کی ہر قوم اس روحانی نعمت کو صرف اپنے آپ تک محدود قرار دے رہی ہے اور کسی دوسری قوم کو اس کا حق دار نہیں سمجھتی وہاں