سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 778
227 اسی طرح قرآن شریف سے پتہ لگتا ہے کہ جب خدا تعالیٰ نے حضرت موسی کو پیغام رسالت دے کر فرعون کی طرف بھیجا تو حضرت موسی کو تاکید فرمائی کہ (چونکہ فرعون کو اس وقت ملک میں رتبہ حاصل ہے اس لئے ) اس کے ساتھ نرمی اور ادب کے طریق پر بات کرنا ہے عدالتی امور میں مکمل مساوات لیکن اس کے مقابل پر عدالتی اور قضائی حقوق کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اور کن شاندار الفاظ میں فرماتے ہیں کہ : إِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ أَنَّهُمْ كَانُوا يُقِيمُونَ الْحَدَّ عَلَى الْوَضِيعِ وَيَتْرُكُونَ الشَّرِيفَ۔وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْاَنَّ فَاطِمَةَ فَعَلَتْ ذَلِكَ لَقَطَعُتُ يَدَهَا یعنی " تم سے پہلے اس بات نے کئی قوموں کو ہلاک کر دیا کہ جب ان میں سے کوئی چھوٹا آدمی جرم کرتا تھا تو وہ اسے سزا دیتے تھے اور جب کوئی بڑا آدمی جرم کرتا تھا تو وہ اسے چھوڑ دیتے تھے۔سوا چھی طرح کان کھول کر سن لو کہ مجھے اس پاک ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر میری لڑکی فاطمہ بھی چوری کرے گی تو میں اسلامی طریق پر اس کے بھی ہاتھ کاٹوں گا۔“ اللہ ! اللہ ! کیسے زور دار الفاظ ہیں اور کس جلال کے ساتھ اسلامی مساوات کو قائم کیا گیا ہے! اور یہ تعلیم وہ تھی جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء نے بھی بڑی سختی کے ساتھ مد نظر رکھا۔چنانچہ حضرت ابوبکرخلیفہ اول رضی اللہ عنہ اپنی خلافت کے سب سے پہلے خطبہ میں فرماتے ہیں : الضَّعِيفُ فِيْكُمْ قَوِيٌّ عِنْدِى حَتَّى اَرِيحَ عَلَيْهِ حَقَّهُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ وَالْقَوِيُّ فِيُكُمُ ضَعِيفٌ عِنْدِي حَتَّى أَخُذَ الْحَقَّ مِنْهُ _ یعنی ”اے مسلمانو! سن لو کہ تم میں سے کمزور ترین شخص میرے لئے اس وقت تک قوی ہوگا جب تک کہ میں اسے اس کا حق نہ دلا دوں اور تم میں سے قوی ترین شخص میرے لئے اس وقت تک کمزور ہو گا جب تک کہ میں اس سے وہ حق جو اس نے کسی اور کا دبایا ہوا ہو واپس نہ لے لوں۔“ اسی طرح حضرت عمر خلیفہ ثانی رضی اللہ عنہ کے متعلق روایت آتی ہے کہ ایک دفعہ شمالی عرب کے ایک : سورة طه : ۴۵ ابن ہشام امرسقیفہ بنی ساعدہ بخاری کتاب الحدود