سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 64 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 64

۶۴ تھا۔جنگ میں عرب لوگ عموماً تین قسم کے ہتھیار استعمال کرتے تھے۔تیر کمان ، نیزہ اور تلوار۔بچاؤ کے واسطے زرہ اور خود استعمال کی جاتی تھیں۔عرب لوگ جنگ گھوڑے پر بھی کرتے تھے اور پیدل بھی۔لیکن بہادروں کے درمیان یہ بہادری کی علامت سمجھی جاتی تھی کہ لڑائی کے وقت گھوڑے سے اتر کر اپنے عزیز گھوڑے کی کونچیں کاٹ کر اسے نیچے گرادیں تا کہ یہ ثابت ہو کہ ہم نے اپنے واسطے بھاگنے کا کوئی راستہ کھلا نہیں رکھا۔جنگوں میں بار برداری کے لیے اونٹ استعمال ہوتا تھا۔عربوں میں بہادری اور شجاعت نہایت اعلیٰ وصف سمجھے جاتے تھے اور عرب شاعر اپنی اور اپنے قبیلہ کی بہادری کے کارنامے دلی جوش و خروش کے ساتھ منظوم کرتے تھے اور بہادری گویا ان کے قومی خصائل میں سب سے نمایاں تھی۔موت کے ڈرکو ایک سخت قابل شرم بات خیال کیا جاتا تھا اور موت سے ڈرنے والا سب کی نظروں میں مطعون ہو جاتا تھا۔دراصل بہادری عربوں کی زندگی کے ساتھ لازم وملزوم تھی۔عربوں کی غیرت اور غرور کے قصے بھی بہت مشہور ہیں۔عمرو بن کلثوم کا مشہور مُعلَّقہ جس میں وہ عمر و بن ہند کو خاص عربی انداز میں مخاطب کرتا ہے، عربوں کی غیرت کی ایک عام مثال ہے۔عموماً عرب لوگ اپنے مفاد کے مقابلہ میں عہد و پیمان کا زیادہ پاس نہ کرتے تھے ، تاہم عربوں کے اندر وفاداری کی بعض مثالیں حیرت انگیز ہیں۔شموئل بن عادیہ نے امرؤ القیس کی امانت کی حفاظت میں اپنے جوان بیٹے کے قتل کی پروانہیں کی۔عربوں میں سخاوت ایک نہایت اعلیٰ وصف سمجھا جاتا تھا اور پڑوسی اور مہمان کی حفاظت ان کے دین و مذہب کا حصہ تھی۔مہمان نوازی تو عربوں کی فطرت میں تھی۔رات کو کسی اونچی جگہ آگ جلا رکھتے تھے تا کہ اسے دیکھ کر مصیبت زدہ مسافران تک پہنچ سکے۔مہمان کی خاطر گھر کا سب کچھ خرچ کر ڈالنے میں دریغ نہ تھا۔اس ضمن میں عرب کے مشہور ہیر و حاتم طائی کی سخاوت و مہمان نوازی کے قصے زبان زدخلائق ہیں۔قبیلہ کی پاسداری عربوں کا فرض عین تھا۔ایک شاعر فخر یہ کہتا ہے کہ میں تو قبیلہ غزیہ سے ہوں۔اگر وہ غلطی کریں تو میں بھی غلطی کروں گا اور اگر غز یہ ٹھیک راستہ پر چلیں تو میں بھی ٹھیک راستہ پر چلوں گا۔عرب میں اپنے حسب نسب پر فخر کرنے کی عادت عام تھی اور اپنے باپ دادوں کے کارناموں کا فخریہ لہجہ میں ذکر کرنا ان کا خاصہ تھا۔یہ اسی تکبر کا نتیجہ تھا کہ عرب لوگ غلاموں اور خادموں کو نہایت ل : دیوان الحماسه