سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 771 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 771

221 پیغامبر بننے کے لئے اس غرض سے چنا ہو کہ وہ پہلے قیصر سے مل چکے ہیں۔اس توجیہ کی تائید اس طرح بھی ہوتی ہے کہ ابن اسحاق نے لکھا ہے کہ اس سفر میں دحیہ کے پاس تجارتی سامان تھا اور صلح حدیبیہ کے بعد والے سفر میں بظاہر تجارتی سامان کا تعلق نظر نہیں آتا۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دحیہ کا یہ سفر محض تجارتی غرض سے ہو اور ابن سعد کے راوی نے اس کے دوسرے سفر کے ساتھ اس سفر کو خلط کر کے قیصر کی ملاقات اور خلعت کے ذکر کو قیا سا شامل کر لیا ہو۔واللہ اعلم سریہ زید بن حارثہ بطرف وادی القری رجب ۶ ہجری سریہ جسمی کے قریباً ایک ماہ بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر زید بن حارثہ کو وادی القریٰ کی طرف روانہ فرمایا۔جب زید کا دستہ وادی القریٰ میں پہنچا تو بنو فزارہ کے لوگ ان کے مقابلہ کے لئے تیار تھے۔چنانچہ اس معرکہ میں متعد د مسلمان شہید ہوئے اور خود زید کو بھی سخت زخم آئے مگر خدا نے اپنے فضل سے بچا لیا۔کے وادی القریٰ جس کا اس سریہ میں ذکر ہوا ہے وہ مدینہ سے شمال کی طرف شامی راستہ پر ایک آباد وادی تھی جس میں بہت سی بستیاں آباد تھیں اور اسی واسطے اس کا نام وادی القریٰ پڑ گیا تھا یعنی بستیوں والی وادی اور ہم آگے چل کر دیکھیں گے کہ اس وادی میں بعض یہودی قبائل بھی آباد تھے جو خیبر کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر مفتوح ہوئے۔زید بن حارثہ کی امارت پر لوگوں کا اعتراض گزشتہ چار پانچ مہوں میں زید بن حارثہ کی کمان کا ذکر آیا ہے۔ہمارے ناظرین جانتے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب ہیں کہ زید ایک آزاد کردہ غلام تھے اور قرآنی حکم کے نزول سے قبل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنا بیٹا بنایا ہوا تھا اور ان کی وفات تک جو ۸ ہجری میں غزوہ موتہ میں ہوئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں متعدد مہموں کا امیر مقررفرمایا اور بڑے بڑے صحابہ کو ان کی ماتحتی میں رکھا۔ان کی وفات کے بعد ان کے بیٹے اسامہ سے بھی آپ کو خاص محبت تھی۔چنانچہ اکثر صحابہ کو خیال تھا کہ اسامہ جس بے تکلفی اور آزادی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کر لیتے ہیں وہ کسی دوسرے کو حاصل نہیں۔اسامہ کو بھی آپ نے متعد دمہموں میں امیر مقرر فرمایا اور بعض بڑے بڑے صحابہ کو ان کی ماتحتی میں رکھا اور جب اس پر بعض نو آموز مسلمانوں نے اسامہ کے نسب کی وجہ ابن سعد : ابن اسحاق زرقانی