سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 738 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 738

۷۳۸ حضرت عمرؓ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تاکیدی ارشادات کے ماتحت اپنی غیر مسلم رعایا کا اس قدر خیال تھا کہ انہوں نے فوت ہوتے ہوئے خاص طور پر ایک وصیت کی جس کے الفاظ یہ تھے : ” میں اپنے بعد میں آنے والے خلیفہ کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اسلامی حکومت کی غیر مسلم رعایا سے بہت نرمی اور شفقت کا معاملہ کرے۔ان کے معاہدات کو پورا کرے۔ان کی حفاظت کرے۔ان کے لئے ان کے دشمنوں سے لڑے اور ان پر قطعاً کوئی ایسا بوجھ یا ذمہ داری نہ ڈالے جو ان کی طاقت سے زیادہ ہولے عام سلوک اور سیاسی تعلقات عام سلوک اور سیاسی تعلقات کے معاملہ میں بھی اسلام نے ایسا نمونہ قائم کیا جس کی مثال کسی دوسری قوم میں نہیں ملتی۔خیبر کے یہودیوں کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معاہدہ کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان سے محاصل کی بٹائی کے لئے اپنے صحابی عبد اللہ بن رواحہ کو بھیجا کرتے تھے۔آپ کی تعلیم کے ماتحت عبداللہ بن رواحہ فصل کی بٹائی میں اس قدر نرمی سے کام لیتے تھے کہ فصل کے دو حصے کر کے یہودیوں کو اختیار دے دیتے تھے کہ اب ان حصوں میں سے جو حصہ بھی تم پسند کرو لے لو اور پھر جو حصہ پیچھے رہ جاتا تھا وہ خود لے لیتے تھے۔حضرت عمر کے زمانہ میں جب شام فتح ہوا تو معاہدہ کی رو سے مسلمانوں نے شام کی عیسائی آبادی سے ٹیکس وغیرہ وصول کیا۔لیکن اس کے تھوڑے عرصہ بعد رومی سلطنت کی طرف سے پھر جنگ کا اندیشہ پیدا ہو گیا جس پر شام کے اسلامی امیر حضرت ابوعبیدہ نے تمام وصول شدہ ٹیکس عیسائی آبادی کو واپس کر دیا اور کہا کہ جب جنگ کی وجہ سے ہم تمہارے حقوق ادا نہیں کر سکتے تو ہمارے لئے جائز نہیں کہ یہ ٹیکس اپنے پاس رکھیں۔عیسائیوں نے یہ دیکھ کر بے اختیار مسلمانوں کو دعا دی اور کہا ” خدا کرے تم رومیوں پر فتح پاؤ اور پھر اس ملک کے حاکم بنو۔چنانچہ جب مسلمانوں نے دوبارہ فتح حاصل کی تو علاقہ کی عیسائی آبادی نے بڑی خوشی منائی اور واپس شدہ ٹیکس پھر مسلمانوں کو ادا کئے۔تے یہ اسی قسم کے حسن سلوک کا نتیجہ تھا کہ جب حضرت عمر خلیفہ ثانی شام میں تشریف لے گئے تو وہاں کے عیسائی لوگ گاتے اور بجاتے ہوئے ان کے استقبال کے لئے نکلے اور ان پر تلواروں کا سایہ کیا اور پھولوں کی بارش برسائی ہے کتاب الخراج صفحه ۷۲ في الخرص نیز دیکھو مؤطا مالک کتاب المساقاة فتوح البلدان بلاذری صفحه ۱۴۶ : ابو داؤد کتاب البیوع باب فِي الْمُسَاقَاة وباب کتاب الخراج ابو یوسف صفحه ۸۰ ۸۲٬۸۱