سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 732
۷۳۲ ہو جاؤ اور چاہئے کہ کسی قوم کی مخالفت تمہیں عدل و انصاف کے رستے سے نہ ہٹائے بلکہ تم سب کے ساتھ عدل کا معاملہ کرو۔کیونکہ یہی طریق تقویٰ کا تقاضا ہے۔پس تم متقی بنوا ور یا درکھو کہ خدا تمہارے اعمال کو خوب دیکھ رہا ہے۔“ یہ آیت غیر حکومتوں اور غیر قوموں کے ساتھ مسلمانوں کے تعلقات کے لئے بطور ایک بنیادی پتھر کے ہے کیونکہ اس میں وہ اصل الاصول بتایا گیا ہے جس پر بین الا قوام اور بین الدول تعلقات قائم ہونے چاہئیں اور غور کیا جائے تو یہ اصول ایسا زریں ہے کہ اگر فریقین کی طرف سے اس پر پورا پورا عمل ہو تو نہ صرف یہ کہ بین الاقوام تعلقات کبھی بگڑ نہیں سکتے بلکہ وہ ایسی خوشگوار صورت میں قائم رہ سکتے ہیں کہ جس میں بگڑنے کا کوئی امکان ہی نہ ہو مگر افسوس کہ اکثر لوگ دوسروں کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے اس اصول کو عملا نظر انداز کر دیتے ہیں۔اس جامع و مانع اصول کے بعد اسلام معاہدہ کے سوال کو لیتا ہے کیونکہ بین الاقوام تعلقات میں یہی سوال سب سے زیادہ اہم ہے۔چنانچہ فرماتا ہے: وَاَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا یعنی ”اے مسلمانو! تم اپنے تمام عہدوں کو پورا کرو کیونکہ خدا کے حضور تمہیں اپنے عہدوں کے متعلق جواب دہ ہونا پڑے گا۔اس حکم کے ماتحت مسلمانوں کا یہ فرض قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے معاہدات کو نہایت وفاداری اور دیانت کے ساتھ نبھائیں اور کسی ایسے فعل کے مرتکب نہ ہوں جو ان کے عہد و پیمان کی روح یا الفاظ کے خلاف ہو۔اسلام میں معاہدہ کی پابندی کا اس قدر تا کیدی حکم ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر کسی مسلمان قوم کا کسی غیر مسلم قوم کے ساتھ معاہدہ ہو اور پھر اس غیر مسلم قوم کے خلاف کوئی دوسری مسلمان قوم اس مسلمان قوم کو اپنی مدد کے لئے بلائے تو اسے چاہئے کہ ہرگز اس کی مدد نہ کرے بلکہ بہر حال اپنے عہد پر قائم رہے۔چنانچہ فرماتا ہے: وَالَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يُهَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِنْ وَلَايَتِهِمْ مِنْ شَيْءٍ حَتَّى يُهَاجِرُوا وَإِنِ اسْتَنْصَرُ وكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ إِلَّا عَلَى قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِّيْثَاقُ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيرٌ O : یعنی ” جو لوگ مسلمان تو ہو گئے ہیں مگر وہ ہجرت کر کے اسلامی حکومت میں منسلک نہیں ہوئے ان کے متعلق اے مسلما نو تم پر کوئی خاص ذمہ داری نہیں ہے یہاں تک کہ وہ ہجرت کر کے تمہارے ساتھ ل : سورۃ بنی اسرائیل : ۳۵ : سورۃ انفال : ۷۳