سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 730
۷۳۰ مِنْ قُرَيش - یعنی ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ میری امت کی تباہی بالآخر قریش کے نوجوانوں کے ہاتھوں سے ہوگی۔یعنی جب قریش کی حالت خراب ہو جائے گی اور وہ حکومت کے اہل نہیں رہیں گے تو پھر اس کے بعد ان کے ہاتھ میں حکومت کا رہنا بجائے رحمت کے زحمت ہو جائے گا اور بالآخر قریش ہی کے ہاتھوں سے اسلامی حکومت کی تباہی کا سامان پیدا ہو جائے گا چنانچہ ایسا ہی ہوا۔اور یہ جو بعض حدیثوں میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ قریش کی امارت قیامت تک رہے گی۔اس سے بھی یہی مراد ہے کہ امت اسلامی کی تباہی تک قریش بر سر حکومت رہیں گے اور پھر بالآخر انہیں کے ہاتھوں سے تباہی کا بیج بویا جا کر اسلام میں ایک نئے دور کا آغاز ہو جائے گا۔خلاصہ کلام یہ کہ قرآن واحادیث کے مجموعی مطالعہ سے یہ بات قطعی طور پر ثابت ہوتی ہے کہ قریش کی امارت وخلافت کے متعلق جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے اس سے محض پیشگوئی مراد ہے، حکم یا سفارش مراد نہیں اور پھر یہ پیشگوئی بھی میعادی اثر رکھتی تھی یعنی اسلام کے دور اول کے ساتھ مخصوص تھی اور آپ کا منشاء یہ تھا کہ چونکہ اس وقت حکومت کی اہلیت سب سے زیادہ قریش میں ہے اس لئے آپ کے بعد وہی بر سر حکومت واقتدار رہیں گے لیکن ایک عرصہ کے بعد وہ اس اہلیت کو کھو بیٹھیں گے تو پھر اس وقت امت محمدیہ پر ایک انقلاب آئے گا اور اس کے بعد ایک نئے دور کی داغ بیل قائم ہو جائے گی۔الغرض یہ بات درست نہیں ہے کہ اسلام نے حکومت کے حق کو کسی خاص خاندان یا قوم کے ساتھ محدود کر دیا ہے بلکہ حق یہ ہے کہ اسلام میں حکومت انتخاب سے قائم ہوتی ہے اور انتخاب میں ہر شخص کے لئے دروازہ کھلا رکھا گیا ہے۔یہ وہ مختصر ڈھانچہ حکومت کے طریق کا ہے جو اسلام نے پیش کیا ہے اور ہر عقل مند اور غیر متعصب شخص سمجھ سکتا ہے کہ یہ ایک بہترین ہدایت ہے جو اس معاملہ میں دی جاسکتی تھی کیونکہ اصول سیاست کے لحاظ سے کامل ہونے کے علاوہ یہ تعلیم ایک ایسا جامع رنگ رکھتی ہے کہ تفاصیل کے مناسب اختلاف کے ساتھ وہ ہر زمانہ اور ہر قوم کے لئے ایک شمع ہدایت کا کام دے سکتی ہے اور اس زمانہ کے ترقی یافتہ مغربی ممالک کے سیاست دان بھی ابھی تک اصول سیاست میں اس سے بہتر طریق دنیا کے سامنے پیش نہیں کر سکے۔ظاہر ہے کہ سیاست کے بنیادی اصول چار ہیں۔اول یہ کہ امیر یعنی صد ر حکومت کا تقررکس اصول پر مبنی ہو۔آیا ورثہ کے حق کی بنا پر یا کسی خاندانی حق کی بنا پر یا بعض خاص لوگوں کی رائے سے یا جمہور اور بخاری کتاب الفتن اسلامی اصطلاح میں بڑے انقلاب کو بھی قیامت سے تعبیر کیا جاتا ہے