سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 729
۷۲۹ ذریعہ اور بہت سی باتوں کا اظہار فرمایا تھا جو آئندہ ہونے والی تھیں اسی طرح جو خلفاء آپ کے بعد ہونے والے تھے ان کے متعلق آپ کو یہ علم دیا گیا تھا کہ وہ قبیلہ قریش میں سے ہوں گے اور پیشگوئی کی صورت میں قطعاً کوئی اعتراض نہیں رہتا کیونکہ بہر حال خلفاء نے کسی نہ کسی قوم یا قبیلہ میں سے ہونا تھا اور اگر اس وقت کے حالات کے ماتحت وہ سب کے سب قریش میں سے ہوئے تو اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہوسکتا۔علاوہ ازیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اس زمانہ کے حالات کے ماتحت قریش ہی وہ قبیلہ تھا جو حکومت کی سب سے زیادہ اہلیت رکھتا تھا۔کیونکہ اول تو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا قبیلہ تھا جس کی وجہ سے طبعا اسے مسلمانوں میں ایک جائز عزت حاصل تھی اور لوگ اس کے اثر کو قبول کرتے تھے۔دوم قریش کا قبیلہ عرب کے سب سے زیادہ مرکزی شہر کا رہنے والا تھا اور وہی کعبتہ اللہ کا بھی متولی تھا جس کی وجہ سے زمانہ جاہلیت میں بھی وہ سارے ملک میں خاص عزت واحترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا اور دوسرے قبائل عرب عموماً ہر معاملہ میں قریش کی طرف دیکھتے تھے اور ان کی رہبری کو قبول کرتے تھے۔سوم قریش کے لوگ بوجہ اس نظام کے جو ان کے جد اعلیٰ قصی بن کلاب نے مکہ میں جاری کیا تھا حکومت کے نظام وطریق سے ایک حد تک واقف ہو چکے تھے اور ان کے سوا کوئی دوسرا قبیلہ امور حکومت سے آشنا نہیں تھا۔چہارم بوجہ اس کے کہ اسلام میں سابقین الاولین سب قریش میں سے تھے اور انہیں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنے اور آپ کی تعلیم کو اپنے اندر جذب کرنے کا سب سے زیادہ موقع ملا تھا اس لیے وہ لازماً اسلامی طریق حکومت میں بھی دوسروں کی نسبت بہت زیادہ اہلیت رکھتے تھے۔ان وجوہات کی بنا پر اس زمانہ میں قریش کو دوسرے قبائل عرب پر ایک حقیقی اور یقینی فوقیت حاصل تھی اور انہیں چھوڑ کر کسی دوسرے قبیلہ میں عنان حکومت کا جانا ملک کے لیے سخت ضرر رساں تھا اور یقیناً کوئی دوسرا قبیلہ اس خیر و خوبی کے ساتھ نظام حکومت کو چلا نہ سکتا جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اسلام کے ابتدائی خلفاء نے چلایا مگر اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ اسلام نے قریش کو ہمیشہ کے لیے حکومت کا ٹھیکہ دے دیا تھا۔چنانچہ اگر ایک طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول مروی ہوا ہے کہ میرے بعد خلفاء وائمہ اسلام قریش میں سے ہوں گے تو دوسری طرف آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ بالآخر قریش حکومت کی اہلیت کو کھو بیٹھیں گے اور اسلام کی حکومت کو تباہ و برباد کرنے کا موجب بن جائیں گے چنانچہ حدیث میں آتا ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم هَلَكَةُ أُمَّتِي عَلَى يَدَى غِلْمَةٍ