سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 728
۷۲۸ قوم کو اپنے سے نیچا سمجھے کیونکہ تمہیں کیا معلوم ہے کہ خدا کی نظروں میں کون بڑا ہے۔اور ہم نے جو تمہیں دنیا میں قوموں اور قبائل کی صورت میں بنایا ہے تو اس کی غرض صرف یہ ہے کہ تم آپس کی شناخت اور تمیز میں آسانی پاؤ۔یہ نہیں کہ تم اس تفریق پر کسی قسم کی بڑائی یا خاص حقوق کی بنیاد سمجھو کیونکہ خدا کی نظر میں تم میں سے بڑا وہ ہے جو خدائی قانون کی زیادہ اطاعت اختیار کرتا ہے خواہ وہ کوئی ہو‘“ اس واضح اور غیر مشکوک اصولی تعلیم کے علاوہ قرآن شریف خاص خلافت و امارت کے سوال میں بھی قومی یا خاندانی حق کے خیال کو رد کرتا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے : إِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْآمَنَتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ یعنی خدا تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ حکومت کی باگ ڈور صرف اہل لوگوں کے سپرد کیا کرو (خواہ وہ کوئی ہو ) اور جو لوگ امیر منتخب ہوں انہیں چاہیے کہ اپنی حکومت کو عدل و انصاف کے ساتھ چلائیں۔“ اس آیت میں خلیفہ یا امیر کے لیے صرف یہ شرط رکھی گئی ہے کہ وہ حکومت کا اہل ہو اور اس کے علاوہ کوئی اور شرط نہیں لگائی گئی جو اس بات کی یقینی دلیل ہے کہ اسلام میں خلیفہ یا امیر کے لیے اہلیت کے سوا کوئی شرط نہیں ہے۔اسی طرح حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ إِسْمَعُوا وَأَطِيعُوا وَإِنِ اسْتُعْمِلَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ حَبَشِی - یعنی حضرت انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ اے مسلمانو! اگر تم پر ایک حبشی غلام بھی امیر بنایا جاوے تو تمہارا فرض ہے کہ اس کی اطاعت کرو۔اگر اسلام میں امیر کا قریشی ہونا ضروری تھا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بے معنی قرار پاتا ہے بلکہ اس صورت میں آپ کو یہ فرمانا چاہئے تھا کہ تم ہر قریشی امیر کی فرمانبرداری کرو خواہ وہ کیسا ہی ہو۔الغرض کیا بلحاظ اصول کے اور کیا بلحاظ تخصیص کے یہ بات بالکل غلط اور بے بنیاد ہے کہ اسلام میں حکومت اور خلافت کو کسی خاص قوم کے ساتھ وابستہ کر دیا گیا ہے اور اسلامی تعلیم کی روح اس خیال کو دور سے دھکے دیتی ہے۔اب رہا یہ سوال کہ پھر ان احادیث کا مطلب کیا ہے جن میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ خلفاء اور ائمہ قریش میں سے ہوں گے۔سوان احادیث پر ایک ادنی تدبر بھی اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ یہ ایک پیشگوئی تھی نہ کہ حکم یا سفارش۔یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بخاری کتاب الاحکام باب السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ ا: سورۃ نساء : ۵۹