سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 726
۷۲۶ ہیں۔چنا نچہ اس قسم کے انتہائی حالات میں اسلامی طریق یہ ہے کہ جولوگ امیر کی حکومت کو از بس خطر ناک سمجھیں انہیں چاہئے کہ اس کی مملکت سے نکل جائیں اور مملکت سے نکل جانے کے بعد اگر ضروری اور مناسب خیال کریں تو اس کے عزل کے لیے ساعی ہوں۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت بھی اسی اصل کے ماتحت وقوع میں آئی تھی کہ آپ نے مکہ کی حکومت کے مظالم اور مذہبی دست درازیوں سے تنگ آکر بالآخر رؤساء قریش کی حکومت سے خروج کا طریق اختیار کیا تھا۔اور پھر اس کے بعد خدا نے آپ کے ذریعہ قریش کی اس ظالمانہ حکومت کے توڑنے کی تدبیر فرمائی تھی اور قریباً یہی صورت خدائی حکومت کے ماتحت بنو اسرائیل نے فرعون کے مظالم پر اختیار کی تھی۔یعنی یہ کہ وہ حضرت موسیٰ کے ساتھ ہو کر فرعون کی حکومت سے نکل گئے تھے۔اور اسی صورت سے ملتی جلتی صورت امام حسین اور عبد اللہ بن زبیر نے یزید بن معاویہ بن ابی سفیان کی امارت کے موقع پر اختیار کی تھی۔یعنی جب امیر معاویہ نے بعض غلط مشوروں میں آکر خلاف تعلیم اسلام اور خلاف سنت خلفاء الراشدین اپنی زندگی میں ہی اپنے لڑکے یزید کو اپنا جانشین مقرر کرنا چاہا تو ان اصحاب نے صاف صاف کہہ دیا کہ یہ طریق خلاف تعلیم اسلام ہے لیکن جب امیر معاویہ نے ان کی رائے نہ مانی اور عوام کا سہارا ڈھونڈ کر یزید کو اپنا جانشین مقرر کر دیا تو انہوں نے ناچار خاموشی اختیار کی۔کیونکہ اس وقت امیر معاویہ برسر حکومت تھے اور یہ اصحاب ان کی بیعت اطاعت میں داخل تھے اس لیے ان کے لیے امیر معاویہ کی حکومت کے اندر رہتے ہوئے ان کے خلاف سراٹھا نا جائز نہیں تھا اور دوسری طرف اس وقت امیر معاویہ کی حکومت سے باہر نکل جانے کی بھی کوئی عملی صورت نہیں تھی۔لیکن جب امیر معاویہ فوت ہو گئے۔اور یزید نے اپنی خلافت کا اعلان کیا تو اس وقت امام حسین اور عبداللہ بن زبیر اس کی بیعت میں داخل نہیں ہوئے بلکہ اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہے کیونکہ ابھی یزید کی اطاعت ان پر فرض نہیں ہوئی تھی۔اس صورت میں گویا یزید کے خلاف اٹھنا یزید کی مملکت سے باہر ہو کر مقابلہ کرنے کے مترادف تھا مگر امام حسین اور عبد اللہ بن زبیر کی یہ کوشش کوئی مستقل نتیجہ نہیں پیدا کرسکی اور بنو امیہ کی استبدادی حکومت کو فروغ حاصل ہو گیا۔بہر حال اسلام میں کسی امیر کے ماتحت رہتے ہوئے اس کے خلاف سراٹھانے اور اس کے عزل کی کوشش کرنے کو پسند نہیں کیا گیا بلکہ اس صورت میں اسلامی طریق یہ ہے کہ اگر کوئی شخص امیر کے رویہ کو صریح طور پر خلاف اصول سیاست سورة طه : ۷۸ وسورة يونس: ۹۱،۸۸ طبری حالات ۶۰ ھ وا ۶ ہجری نیز تاریخ کامل جلد ۳ صفحه ۲۱۴ تا ۲۱۸ وجلد ۴ صفحه ۷،۶