سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 721 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 721

۷۲۱ ذکر ضروری ہے کہ یہ خیال جو ہم نے یہاں ظاہر کیا ہے یہ اسلام کا کوئی فیصلہ شدہ عقیدہ نہیں ہے بلکہ محض ایک رائے ہے جو واقعات سے نتیجہ نکال کر قائم کی گئی ہے۔واللہ اعلم عزل اور میعادی انتخاب کا سوال یہ سوال کہ آیا امیر یا خلیفہ کا انتخاب میعادی بھی ہوسکتا ہے یا نہیں؟ نیز یہ کہ آیا کوئی شخص امیر یا خلیفہ منتخب ہونے کے کسی اور دینی اور دنیوی امراء میں فرق نقص یا کمزوری کی وجہ سے اپنے عہدہ سے معزول بھی ہوسکتا ہے یا نہیں؟ ایک نہایت قابل غور سوال ہے۔اس معاملہ میں اسلام نے دینی اور دنیاوی امراء میں ایک امتیاز رکھا ہے۔دینی امراء سے مراد وہ امراء ہیں جن کے ہاتھ میں دینی سیاست یا دینی اور دنیوی سیاست مخلوط طور پر ہو اور دنیوی امراء سے وہ امراء مراد ہیں جن کا تعلق محض دنیوی سیاست کے ساتھ ہو۔اوّل الذکر امراء کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ آمَنَّا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَيكَ هُمُ الْفُسِقُوْنَO یعنی ”اے مومنو! اللہ تعالیٰ وعدہ کرتا ہے ان لوگوں کے ساتھ جو تم میں سے (اعلیٰ) ایمان لائیں اور (اعلیٰ قسم کے ) نیک اعمال کریں کہ ضرور انہیں دنیا میں خلیفہ مقرر کرے گا جیسا کہ اس نے تم سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا اور اللہ ان خلفاء کے دین کو جو اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے ان کے ذریعہ سے طاقت وقوت عطا کرے گا اور ان کی خوف کی حالت کو امن سے بدل دے گا یہ لوگ ہمیشہ میری عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی قسم کا شرک نہیں کریں گے اور جو لوگ ان خلفاء کی اطاعت سے منحرف ہوں گے وہ بد عہد اور باغی سمجھے جائیں گے۔اس آیت کریمہ سے پتہ لگتا ہے کہ دینی خلفاء کی خلافت خدا تعالیٰ کے خاص تصرف اور خاص منشا کے ماتحت قائم ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی خاص نصرت ان کے شامل حال رہتی ہے اور ان کے ذریعہ سے دینی سیاست کی تقویت اور مضبوطی مقصود ہوتی ہے اور اسی لئے ان کی اطاعت سے خارج ہونے والا شخص خدا کی نظر میں فاسق و باغی سمجھا جاتا ہے۔اس آیت کی عملی تشریح میں ایک حدیث آتی ہے کہ : عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ لِى رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم فِي مَرَضِهِ لَقَدْ هَمَمْتُ : سورۃ نور : ۵۶