سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 720
۷۲۰ کیا امارت سے دستبرداری کی جاسکتی ہے؟ یہ سوال کہ کوئی خلیفہ یا امیر با قاعدہ طور پر منتخب یا مقرر ہونے کے بعد خود بعد میں کسی مصلحت کی بنا پر خلافت سے دست بردار ہو سکتا ہے یا نہیں؟ ایک ایسا سوال ہے جس کے متعلق اسلامی شریعت میں کوئی نص نہیں پائی جاتی مگر ظاہر ہے کہ اس معاملہ میں دنیوی امراء کے متعلق تو کوئی امر مانع نہیں سمجھا جاسکتا۔البتہ دینی خلفاء کا سوال قابل غور ہے۔تاریخ سے پتہ لگتا ہے کہ جب حضرت عثمان خلیفہ ثالث سے ان کے زمانہ کے باغیوں نے یہ درخواست کی کہ آپ خود بخو دخلافت سے دست بردار ہوجائیں ورنہ ہم آپ کو جبراً الگ کر دیں گے یا قتل کر دیں گے تو اس پر حضرت عثمان نے یہ جواب دیا کہ جو عزت کی قمیص خدا نے مجھے پہنائی ہے میں اسے خود اپنی مرضی سے کبھی نہیں اتاروں گا یا جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی طرف اشارہ تھا جو آپ نے حضرت عثمان سے فرمایا تھا کہ خدا تمہیں ایک قمیص پہنائے گا اور لوگ اسے اتارنا چاہیں گے مگر تم اسے نہ اتارنا ہے لیکن اس کے مقابلہ میں حضرت امام حسنؓ کا یہ فعل ہے کہ انہوں نے امت محمدیہ کے اختلاف کو دیکھتے ہوئے امیر معاویہؓ کے حق میں خلافت سے دستبرداری اختیار کرلی۔اور روایت آتی ہے کہ اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ پیشگوئی پوری ہوئی کہ میرے اس نواسے کے ذریعہ خداد و مسلمان گروہوں میں صلح کروائے گا۔گویا امام حسن کے اس فعل کو مقام مدح میں سمجھا گیا ہے کہ ان کی اس دست برداری کے نتیجہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ پیشگوئی پوری ہوئی جس میں آپ نے امام حسنؓ کی ایک امتیازی خوبی بیان کی تھی اور امت محمدیہ پھر ایک نقطہ پر جمع ہوگئی۔ان دو مثالوں سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ دست برداری کا سوال حالات پر چھوڑا گیا ہے یعنی یہ کہ اگر خلافت کا استحکام ہو چکا ہو جیسا کہ حضرت عثمان کے معاملہ میں ہو چکا تھا یا یہ کہ اگر دست برداری کے متعلق لوگوں کی طرف سے خواہش یا مطالبہ ہو تو وہ نا پسندیدہ بلکہ نا جائز ہے۔لیکن اگر قبل استحکام خلافت جیسا کہ امام حسنؓ کے معاملہ میں پایا جاتا ہے کسی اعلیٰ غرض کے حصول کے لئے خود خلیفہ اپنی خوشی سے اپنی خلافت سے دست بردار ہو جانا مناسب خیال کرے تو اس کے لئے کوئی امر مانع نہیں ہے۔اس جگہ یہ : طبری و تاریخ کامل ابن اثیر حالات قتل حضرت عثمان نیز زرین عن عبداللہ بن سلام بحوالہ تلخیص الصحاح باب فی ذكر الخلفاء الراشدين ترندی بحوالہ مشکوۃ باب مناقب عثمان ۳ : بخاری عن حسن بصری کتاب الصلح نیز طبری و تاریخ کامل ابن اثیر حالات ۴۱ ہجری ۴ : بخاری بحوالہ مشکوۃ باب مناقب اہل بیت و فتح الباری شرح حدیث مذکور