سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 719 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 719

واء کچھ عرصہ بعد شہید ہو گئے۔مگر انہوں نے اس استبدادی حکومت کے سامنے جسے وہ اسلامی طریق کے خلاف سمجھتے تھے گردن نہیں جھکائی۔لیکن امیر معاویہ کی یہ غلطی بعد میں آنے والوں کے لئے ایک مثال بن گئی اور اس وقت سے بادشاہی رنگ میں ولی عہدی کا طریق جاری ہو گیا۔اس بات کا ثبوت کہ امیر معاویہ اور ان کے بعد آنے والے امراء کی امارت صحیح اسلامی خلافت نہیں تھی بلکہ صرف ایک بادشاہت تھی اس بات سے بھی ملتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پیشگوئی فرمائی تھی کہ میرے بعد صحیح اسلامی خلافت صرف تمہیں سال رہے گی اور اس کے بعد بادشاہت کا طریق جاری ہو جائے گا۔اور اگر حساب کیا جاوے تو حضرت علی یا امام حسنؓ کی خلافت تک یہ تمہیں سالہ میعاد پوری ہو جاتی ہے اور امیر معاویہ کے زمانہ سے وہ میعاد شروع ہوتی ہے جسے بادشاہت کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔جانشین مقرر کرنے کی شرائط خلاصہ کلام یہ کہ اصل اسلامی تعلیم اور صحیح اسلامی تعامل یہی ہے کہ کی خلافت و امارت کا قیام لوگوں کے مشورہ سے ہونا چاہئے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اسلام کے پہلے خلیفہ کے معاملہ میں ہوا۔لیکن اگر کوئی خلیفہ اپنا جانشین خود مقرر کر جانے کی ضرورت محسوس کرے تو بعض حالات میں اس طریق کے اختیار کرنے کی اجازت تو ہے مگر جیسا کہ اسلامی تعلیم کی روح اور خلفاء اربعہ کی سنت سے ثابت ہوتا ہے اس کے لئے پانچ شرطیں ضروری ہیں اول یہ کہ اس وقت کوئی ایسے خاص حالات موجود ہونے چاہئیں جن کی وجہ سے عام طریق کو چھوڑ کر اس طریق کا اختیار کرنا مناسب ہو۔دوم یہ کہ جانشین کا تقر ر لوگوں کے مشورہ کے ساتھ کیا جاوے۔سوم یہ کہ یہ تقر ر صرف آئندہ خلیفہ یا امیر تک محمد ودر ہے۔یہ نہیں کہ کوئی خلیفہ یہ حکم دے جاوے کہ میرے بعد فلاں شخص امیر ہو اور اس کے بعد فلاں اور اس کے بعد فلاں کیونکہ یہ طریق آئندہ آنے والی نسلوں سے حق انتخاب چھین لینے کے مترادف ہے۔چہارم یہ کہ یہ جانشین خلیفہ وقت کے قریبی رشتہ داروں میں سے نہ ہو۔ہم یہ کہ جانشین مقرر کرنے والا خلیفه خود منتخب شدہ خلیفہ ہونا چاہئے۔واللہ اعلم طبری تاریخ کامل ابن اثیر حالات ۶۰ ھ وا۶ ھ و نیز حالات خلافت ابن زبیر ترندی وابوداؤ دو بحوالہ مشکوة كتاب الفتن فصل ثانى عن سفينة سے : بخاری و مسلم وغیرہ عن ابن عمر بحوالہ تلخیص باب فی ذکر خلفاء الراشدین