سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 716 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 716

217 یہ وہ اصولی ہدا یتیں ہیں جو اسلام نے حکومت کے طریق کے متعلق جاری فرمائی ہیں۔لیکن جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے اسلام نے ان اصولی ہدایات کے سوا اس مسئلہ کی تفصیلات میں کوئی دخل نہیں دیا۔مثلاً اس قسم کے سوالات کے متعلق اسلام نے کوئی معین ہدایات نہیں دیں کہ امیر یعنی صد ر حکومت کے انتخاب کے متعلق کس طریق پر مشورہ ہونا چاہیے اور مجلس شوری کی تقویم کون سے اصول پر مبنی ہو اور جب کوئی امیر منتخب ہو جاوے تو وہ امور مملکت میں پبلک سے مشورہ لینے کے متعلق کیا طریق اختیار کرے اور مشورہ میں کس قسم کے امور پیش ہوں اور نظام حکومت کی جزئیات کیا ہوں وغیر ذالک۔یہ باتیں اور اسی قسم کی دوسری تفصیلات ہر ملک اور ہر قوم اور ہر زمانہ کے حالات پر چھوڑ دی گئی ہیں۔حضرت عمرؓ اور حضرت عثمان کی اس جگہ بعض لوگوں کے دل میں یہ شبہ پیدا ہوسکتا ہے کہ اگر اسلامی تعلیم کی رو سے امیر یا خلیفہ کا تقرر مشورہ اور انتخاب کے خلافت کس طرح قائم ہوئی؟ طریق پر ہونا ضروری ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ حضرت عمر خلیفہ ثانی کا تقر ر اس طریق پر نہیں ہوا بلکہ انہیں حضرت ابوبکر خلیفہ اول نے خود مقرر کر دیا تھا اور پھر کیا وجہ ہے کہ حضرت عثمان خلیفہ ثالث کا تقرر بھی رائے عامہ کے ساتھ نہیں ہوا بلکہ حضرت عمر نے اس حق کو چھ سات صحابہ تک محدود کر دیا تھا اور بالآخر کیا وجہ ہے کہ امراء بنی امیہ اور بنی عباس وغیرہ ہمیشہ اپنا ولی عہد خود مقرر کر دیتے تھے جو عموماً کوئی بیٹا یا قریبی رشتہ دار ہوتا تھا بلکہ بعض اوقات یہ فیصلہ کر جاتے تھے کہ ہمارے بعد فلاں شخص امیر ہو اور اس کے بعد فلاں اور اس کے بعد فلاں اور ان کے زمانہ میں کبھی بھی مشورہ اور انتخاب کے طریق پر امیر کا تقررنہیں ہوا ؟ اس شبہ کے جواب میں پہلے ہم حضرت عمر کی خلافت کے سوال کو لیتے ہیں۔سو جاننا چاہئے کہ بیشک اسلام میں خلافت وامارت کے قیام کے لئے مشورہ اور انتخاب کا طریق ضروری ہے مگر جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں مشورہ اور انتخاب کے طریق کی نوعیت اور اس کی تفاصیل کے متعلق اسلام نے کوئی خاص شرط یا حد بندی مقرر نہیں کی بلکہ اس قسم کے فروعی سوالات کو وقتی حالات پر چھوڑ دیا ہے اور ظاہر ہے کہ مختلف قسم کے حالات میں مشورہ اور انتخاب کی صورت مختلف ہو سکتی ہے اور اس اصل کے ماتحت اگر نظر غور سے دیکھا جاوے تو حضرت عمرؓ کی خلافت کا قیام بھی درحقیقت مشورہ اور انتخاب کے اصول کے ماتحت ہی ثابت ہوتا ہے۔حضرت عمرؓ کی خلافت کا معاملہ یوں طے ہوا تھا کہ جب حضرت ابوبکر جو ایک منتخب شدہ خلیفہ تھے فوت ہونے لگے تو چونکہ اس وقت تک ابھی فتنہ ارتداد کے اثرات پوری طرح نہیں مٹے تھے اور