سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 58
۵۸ دیتے۔پھر کسی اور طرف نکل جاتے۔اسی طرح اُن کی ساری عمر بسر ہو جاتی تھی۔اس طرز زندگی کے نقشے قدیم شاعروں نے اپنے کلام میں نہایت خوبی کے ساتھ کھینچے ہیں۔ان لوگوں کی زبان شہری لوگوں کی نسبت زیادہ صاف اور خالص تھی اور ان میں اصل عربی فطرت اور عربی عادات کی تصویر زیادہ واضح طور پر نظر آتی ہے۔ان کا پیشہ زیادہ تر ایک چرواہے کا سمجھنا چاہیے۔عربوں میں لین دین عموماً جنس کا جنس سے ہوتا تھا، لیکن سونے اور چاندی کے بھرے سے سکے بھی چلتے تھے۔چنانچہ چاندی کے دو سکے رائج تھے، درہم اور اوقیہ۔ایک اوقیہ کی قیمت چالیس درہم کے برابر سمجھی جاتی تھی۔سونے کا مروّج سکہ دینار تھا۔ترازو سے تولنے کا رواج کم تھا۔عموماً ماپ کا دستور تھا؛ چنانچہ مڈ اور صاع عرب کے دو مشہور پیمانے تھے۔ناپنے کا آلہ صرف ذراع یعنی ہاتھ تھا جسے گویا ڈیڑھ فٹ کے برابر سمجھنا چاہئے۔ختنہ کی رسم عربوں میں عام تھی۔حتی کہ بعض اوقات عورتیں بھی ختنہ کرواتی تھیں۔مُردوں کو غسل دینے اور کفن میں لپیٹ کر دفن کرنے کا رواج تھا۔عرب لوگ داڑھی رکھتے اور عموماً مونچھیں کتر واتے تھے۔سُود لینے دینے کا رواج بھی کم و بیش پایا جاتا تھا۔عربوں کی تجارت عربوں کے قومی پیشے صرف تین تھے۔اوّل زراعت جو ملک کے ایک نہایت قلیل حصہ تک محدود تھی۔دوسرے مویشیوں کا پالنا جسے انگریزی میں پاسچرنگ کہتے ہیں۔یہ بھی ملک کے صرف خاص خاص حصوں میں ہی ممکن تھا۔تیسرے تجارت جسے گویا ملک کا سب سے بڑا پیشہ سمجھنا چاہئے عرب کے لوگ ہمیشہ سے تجارت پیشہ رہے ہیں۔خصوصاً وہ قبائل جو ساحل سمندر کے پاس یا متمدن ملکوں کے قرب میں آباد تھے قدیم سے تجارت میں مصروف چلے آئے ہیں۔ابتدائی زمانہ میں تو مشرق و مغرب کے درمیان تجارتی مال لانے اور لے جانے کا بڑا ذریعہ عرب لوگ ہی تھے ، چنانچہ ایک طرف شام و مصر اور دوسری طرف سواحل بحر ہند کے درمیان ان کے تجارتی قافلے برابر آتے جاتے تھے جو گو یا ہندوستان اور شام ومصر کے درمیان ایک تجارتی کڑی کا کام دیتے تھے۔مگر سمندر کا راستہ کھل جانے سے عربوں کی اس تجارت کو سخت نقصان پہنچا اور اس قدیم راستہ پر جو شام سے حجاز اور پھر یمن اور پھر حضر موت کے اندر سے ہوتا ہوا عرب کے مشرقی ساحل کی طرف جاتا تھا تجارتی قافلوں کی آمد و رفت عملاً بالکل رُک گئی اور صرف ملک کے اندر کی معمولی تجارت باقی رہ گئی۔یہ اندرونی تجارت حجاز ، یمن ، بحرین اور نجد وغیرہ کے اندر محدود تھی مگر آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے قریباً ایک سو