سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 713 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 713

۷۱۳ حملہ آور ہو کر اسلام کو مٹانے اور مسلمانوں کو ملیا میٹ کر دینے کا خیال ایک خیال باطل ہے جو کبھی بھی پورا نہیں ہوسکتا۔اور یہ کہ اب انہیں مسلمانوں کو مغلوب کرنے کے لیے اور تدابیر سے کام لینا چاہئے۔کفار کی یہ ذہنی تبدیلی اسلام کے لیے ایک نئے دور کے آغاز کا نشان تھی۔اسلامی طریق حکومت چونکہ اس نئے دور کی دو نمایاں خصوصیات میں سے ایک خصوصیت مدینہ میں خالص اسلامی حکومت کا قیام تھی اس لیے اس موقع پر اس اصولی تعلیم کا ذکر کرنا نا مناسب نہ ہوگا جو بانی اسلام نے حکومت کے طریق کے متعلق پیش فرمائی ہے۔اس کے متعلق سب سے پہلے تو یہ جاننا چاہئیے کہ جیسا کہ دوسرے دنیاوی امور میں اسلام کا طریق ہے اس معاملہ میں اسلام نے صرف ایک اصولی تعلیم دی ہے اور تفصیلات کے تصفیہ کو ہر زمانہ اور ہر ملک اور ہر قوم کے حالات پر چھوڑ دیا ہے۔اور دراصل اس قسم کے معاملات میں یہی طریق عقل مندی اور میانہ روی کا طریق ہے کہ صرف اصولی ہدایت پر اکتفا کیا جاوے اور تفصیلات میں دخل نہ دیا جاوے۔کیونکہ اگر ایسا نہ ہو اور حالات کے اختلاف کا لحاظ رکھنے کے بغیر ہر زمانہ میں ہر قوم پر ایک ہی ٹھوس غیر مبدل اور تفصیلی قانون جاری کر دیا جاوے تو ظاہر ہے کہ قانون شریعت رحمت کی بجائے ایک زحمت ہو جاوے اور ہدایت کی بجائے ضلالت کا سامان پیدا کر دے۔پس اسلام نے کمال دانشمندی کے ساتھ اس معاملہ میں صرف ایک اصولی ہدایت دی ہے۔جو تفصیلات کے مناسب اختلاف کے ساتھ سب قسم کے حالات پر یکساں چسپاں ہوتی ہے۔حکومت کا اصل حق صرف جمہور کو حاصل یہ اصولی ہدایت یہ ہے کہ انبیاء ومرسلین کے معاملہ کو الگ رکھتے ہوئے جنہیں خدا کی طرف ہے اور جمہور کی طرف سے افراد کو پہنچتا ہے سے اس کے ازلی حق میں سے حکومت کا حق پہنچتا ہے سب لوگ حکومت کے حق میں برابر ہیں۔یعنی اصل حکومت جمہور کی ہے اور اس حق میں کسی شخص کو دوسروں کی نسبت فائق حق حاصل نہیں ہے۔لیکن چونکہ نظام حکومت کے چلانے کے لیے ایک محدود انتظامی حکومت کا ہونا ضروری ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت کی انتہائی باگ ڈور ایک حاکم اعلیٰ یعنی صدر حکومت کے ہاتھ میں ہو۔اس لیے اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ لوگوں کو چاہیے کہ باہم مشورہ کے ساتھ جس شخص کو حکومت کے لیے سب سے زیادہ اہل سمجھیں اسے اپنا امیر مقرر کر لیا کریں۔چنانچہ قرآن شریف میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے: