سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 709 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 709

2۔9 " اس جگہ یہ ذکر بھی بے موقع نہ ہوگا کہ میور صاحب نے اسلامی قانون طلاق پر یہ دلآزار طعن کیا ہے کہ اس کی رو سے دو طلاقوں تک تو خاوند کو اپنی بیوی کی طرف رجوع کرنے کا حق ہوتا ہے لیکن تیسری طلاق ہو چکنے کے بعد اسے یہ حق صرف اس صورت میں ہے کہ عورت کسی اور شخص کے نکاح میں آ کر پھر اس سے علیحدگی حاصل کرے اور اس کے بعد میور صاحب نہایت جرات کے انداز میں فرماتے ہیں کہ مسلمانوں میں اس بات کو جائز رکھا گیا ہے کہ ایک کرایہ دار مرد کی خدمات حاصل کر کے اس کے ساتھ ایسی عورت کو اس شرط کے ساتھ بیاہ دیا جاوے کہ وہ اسے نکاح کے بعد طلاق دے دے گا تا کہ وہ عورت اپنے اصل خاوند کی طرف لوٹ سکے۔یہ اعتراض میور صاحب کے پرلے درجہ کے تعصب اور اگر تعصب نہیں تو پر لے درجہ کی لاعلمی پر مبنی ہے۔اسلام ہرگز یہ تعلیم نہیں دیتا کہ سابق خاوند کے واسطے عورت کو جائز کرنے کے لئے یہ حیلہ کیا جاوے کہ عورت کو کسی اور آدمی سے بیاہ کر پھر اس سے علیحدگی حاصل کی جاوے بلکہ حق یہ ہے کہ اسلام اس قسم کے حیلہ کو ایک سخت نا پاک اور لعنتی فعل قرار دیتا ہے۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ لَعَنَ اللهُ الْمُحَلَّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَم دو یعنی وہ شخص خدا کی لعنت کے نیچے ہے جو کسی عورت کے ساتھ اس نیت سے نکاح کرتا ہے کہ تا بعد میں اسے طلاق دے کر اس کے سابقہ خاوند کے لئے اسے جائز کر دے اور اسی طرح وہ شخص بھی خدا کی لعنت کے نیچے ہے جو کسی دوسرے شخص سے اپنی سابقہ بیوی کا اس غرض سے نکاح کرواتا ہے کہ تا وہ شخص اس سے طلاق حاصل کرے پھر اس کے نکاح میں آسکے۔‘اور حضرت عمر خلیفہ ثانی تو یہاں تک فرمایا کرتے تھے کہ اگر کوئی شخص اس قسم کا فعل کرے گا تو میں اسے زنا کی سزا دوں گا۔اندریں حالات اس سے بڑھ کر دیدہ دلیری کیا ہوگی کہ اسلام کی طرف اس نا پاک طریق کو منسوب کیا جاوے۔اسلامی تعلیم کا منشا جسے میور صاحب نے نہیں سمجھایا نہیں سمجھنا چاہا صرف یہ ہے کہ جب تین طلاقیں ہو چکیں تو اس کے بعد مرد و عورت اکٹھے نہیں ہو سکتے سوائے اس کے کہ عورت اپنی جائز ضرورت و غرض کے ماتحت کسی اور آدمی کے نکاح میں آئے اور اس کے بعد وہ اپنے لئے نئے خاوند کی وفات یا کسی حقیقی اختلاف کی بنا پر طلاق کی وجہ سے نہ اس غرض سے کہ وہ اپنے پہلے خاوند کی طرف لوٹ سکے پھر شادی ل لائف آف محمد مصنفه سرولیم میور صفحه ۳۲۶،۳۲۵ ابوداود كتاب النکاح باب فى التحليل وترمذی ابواب النکاح سے تفسیر ابن کثیر بحث آیت حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ