سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 705
۷۰۵ اس لئے ان کے باہمی تنازعات عدالت میں جاسکتے ہیں۔چنانچہ حدیث سے پتہ لگتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسلمان عورتیں اپنے خاوندوں کی شکائتیں لایا کرتی تھیں اور آپ ان میں فیصلہ فرماتے تھے۔اور ان کے حقوق ان کو دلواتے اور ہر طرح ان کی دلداری فرماتے تھے۔حتی کہ ان حقوق اور اس قسم کے مربیانہ سلوک کی وجہ سے صحابہ میں یہ احساس پیدا ہونے لگا تھا کہ اسلام نے تو گویا عورتوں کو آزاد کر دیا ہے۔۔۱۵۔تعدد ازدواج اور دیگر متعلقہ مسائل کے متعلق چونکہ دوسرے موقع پر مفصل بحث گزرچکی ہے اس لئے اس جگہ اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں ہے طلاق کے قانون کا ڈھانچہ اس طرح پر سمجھنا چاہئے کہ : ۱- چونکہ نکاح ایک سول معاہدہ ہے اس لئے وہ ٹوٹ بھی سکتا ہے مگر اسلام نے صرف انتہائی حالات میں اس کے توڑنے کی اجازت دی ہے جبکہ کوئی اور چارہ نہ رہے چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ اَبغَضُ الْحَلالِ إِلَى اللهِ الطَّلاق یعنی جن باتوں کو خاص مصالح کے ماتحت خدائی شریعت میں جائز اور حلال قرار دیا گیا ہے ان میں طلاق خدا کو سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہے“۔اس اصل کے ماتحت اسلام نے ازدواجی رشتہ کو گویا ایک گونہ تقدس اور دوام کا رنگ دے دیا ہے۔اور مسلمانوں کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ وہ رشتہ نکاح کے منقطع کرنے میں کبھی بھی جلدی نہ کریں بلکہ انتہائی احتیاط سے کام لیں۔مگر ایک جامع اور عالمگیر شریعت کی حیثیت میں اسلام نے اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا کہ مرد و عورت کے تعلقات میں ایسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں جن کے ہوتے ہوئے اس رشتہ کا خوشگوار صورت میں قائم رہنا محال ہو جاتا ہے۔اور نہ صرف خاوند و بیوی دونوں کی خانگی زندگی تلخ ہو جاتی ہے بلکہ اس تلخی کا اثر لا زماان کے دوسرے کاموں پر بھی پڑتا ہے۔ایسی صورت میں اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں رہتا کہ ایک افسوس کرتے ہوئے دل کے ساتھ اس رشتہ کو منقطع کر دیا جاوے۔چنانچہ اس قسم کے انتہائی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے خدا تعالیٰ نے اسلام میں طلاق کا قانون جاری فرمایا ہے۔۔اس قانون طلاق کو ( خلاف شریعت اور نا جائز نکاح کی صورتوں کو الگ رکھتے ہیں جنہیں اصطلاحاً سورة بقرة : ۲۳۰ تا ۲۳۲ : دیکھو مشکوۃ کتاب النکاح مسلم کتاب الرضاع باب في الايلاء عن عباس وابوداؤ د كتاب النکاح باب فِي ضَرْبِ النِّسَاءِ : دیکھئے کتاب ہذا حالات ۲ھ ابوداؤ دا بواب الطلاق باب فِي كَرَاهِيَةِ الطَّلَاقِ