سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 699 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 699

۶۹۹ کی ضرورت نہیں ہے۔جن جگہوں میں رشتہ منع ہے ان کا اسلام نے صراحت و تعیین کے ساتھ ذکر کر دیا ہے باقی سب کے ساتھ نکاح ہوسکتا ہے۔کوئی قومی یا نسلی حد بندی نہیں ہے۔ممنوع رشتے اصولاً یہ ہیں۔باپ کی بیوی ، ماں، رضاعی ماں، بیٹی، بیوی کی بیٹی، بہن، رضاعی بہن، خالہ، پھوپھی، بھتیجی، بھانجی، ساس، بہو، ہر خاوند والی عورت ، اور دو بہنوں کا ایک وقت میں جمع کرنا ہے اس حکم کی مزید تشریح حدیث میں کر دی گئی ہے۔-۴- نکاح چونکہ مرد و عورت کے ایک معاہدہ کا نام ہے اور انہوں نے ہی اسے نباہنا ہوتا ہے اس لئے نکاح میں فریقین کی رضا مندی ضروری ہے۔یعنی لڑکا اور لڑکی یا مرد و عورت دونوں اس تعلق کے قائم کرنے پر رضامند ہونے چاہئیں اور ان کی رضامندی کے بغیر یہ رشتہ قائم نہیں ہوسکتا ہے - باوجود پردہ کی حد بندیوں کے اسلام اس بات کی اجازت دیتا ہے بلکہ اس کی تحریک کرتا ہے کہ نکاح سے پہلے مرد و عورت ایک دوسرے پر نظر ڈال لیں تاکہ شکل وغیرہ کا سوال بعد میں موجب خلش نہ بنے۔اسلام میں نکاح اعلان کے ساتھ علی رؤس الا شہاد ہونا ضروری ہے اور خفیہ نکاح کی اجازت نہیں ہے۔اسی اعلان کی غرض سے اسلام میں یہ طریق مقرر کیا گیا ہے کہ جب خاوند بیوی اکٹھے ہوں تو اس خوشی میں خاوند ایک دعوت دے جس میں حسب توفیق اعزہ واحباب اور ہمسائے وغیرہ بلائے جائیں۔-Y دیکھو کتاب ہذا بحث تعد دازدواج واقعات ۲ھ سورة نساء : ۲۳ تا ۲۶ بخاری کتاب النکاح ابواب ۲۱ تا ۲۸ نیز دیکھوزادالمعاد فصول متعلقہ سورۃ نساء : ۴۰۲ و ۲۰، ۲۱۔نیز بخاری کتاب النکاح باب لَا يَنكِحُ الحَبُ وَغَيْرُهُ الْبِكْرَ وَ الشَّيْبَ الابرِضَاءِ هَا مسلم كتاب النکاح باب اِسْتِيذَانُ الشَّيْبِ فِي النِّكَاحِ بِالنُّطْقِ وَالبِكْرِ بِالْسَكُوْتِ ۵ : سورة نساء : ۴۰۲ نیز بخاری کتاب النکاح باب النَّظُرُ إِلَى الْمَرْأَةِ قَبْلَ التَّزويج وترمذی ابواب النکاح باب مَا جَاءَ فِي النَّظُرِ إِلَى الْمَخْطُوبَةِ ترمذی ابواب النکاح باب مَا جَاءَ فِي إِعْلَانِ النِّكَاحِ و موطا امام مالک کتاب النکاح باب جَامِعٌ مَا لَا يَجُوزُ مِنَ النِّكَاحِ