سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 700
اس دعوت کو اصطلاحی طور پر ولیمہ کہتے ہیں۔۔ے۔اگر کسی خاص مصلحت کے ماتحت کسی لڑکے یا لڑکی کا ولی یعنی گارڈین اس کے بچپن کی حالت میں ہی یعنی اس کے بالغ ہونے سے پہلے اس کی شادی کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔کیونکہ بعض اوقات استثنائی صورتوں میں خاص مصالح کے ماتحت ایسا کرنے کی ضروت پیش آسکتی ہے جس کے لئے قانونی طور پر دروازہ کھلا رہنا چاہئے مگر ایسی صورت میں لڑکے کو تو حق ہے ہی ، لڑکی کو بھی لازماً بالغ ہونے پر حاکم کے ذریعہ اس رشتہ کے منقطع کرنے کا حق ہوگا اور اس کی رضا مندی کے بغیر یہ رشتہ قائم نہیں رہ سکے گا۔اس حق کو اسلامی اصطلاح میں خیار البلوغ کہتے ہیں مگر یہ خیال رہے کہ ہم نے جو یہ لکھا ہے کہ استثنائی حالات میں نا بالغی کے زمانہ میں بھی رشتہ ہو سکتا ہے اس سے مراد صرف عقد نکاح ہے۔زنا شوئی کے تعلقات مراد نہیں کیونکہ زنا شوئی کے تعلق کے لئے ہر دو کا بالغ ہونا ضروری ہے۔- گونکاح کے عقد میں اصل رضا مندی فریقین کی ہے اور ان کی رضامندی کے بغیر نکاح قائم نہیں رہ سکتا اور اگر کسی خاص مصلحت سے بچپن میں نکاح ہو بھی جاوے تو نارضامندی کی صورت میں بالغ ہونے پر وہ قائم نہیں رہ سکتا لیکن چونکہ لڑکی اور خصوصاً کنواری لڑکی طبعاً زیادہ سادہ مزاج اور بھولی ہوتی ہے اور دنیا کا تجربہ بھی اسے نسبتا کم ہوتا ہے اور وہ ان باتوں سے بھی زیادہ آگاہ نہیں ہوتی جن پر ابلی زندگی کی حقیقی خوشی کی بنیاد قائم ہوتی ہے اور پھر فطر تا عورت کے اندر قلبی جذبات کا مادہ بھی زیادہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے بسا اوقات جذ بہ عقل مستور ہو جاتا ہے اس لئے اسے کسی غلط راستہ پر پڑنے اور چالاک اور شاطر مردوں کے دھوکے سے بچانے کے لئے اسلام یہ حکم دیتا ہے کہ جب کسی کنواری لڑکی کے رشتہ کا سوال ہو تو اس کا باپ یا باپ نہ ہو تو کوئی اور قریبی رشتہ دار بطور ولی کے اس کے ساتھ رہے اور اس کے مشورہ کے بغیر بخاری کتاب النکاح از باب الْوَلِيمَةُ حَقٌّ تَابَابِ إِجَابَةُ الدَّاعِي فِي الْعِرْسِ : سورة طلاق : ۵ و بخاری کتاب النکاح بَابُ النِّكَاحِ الرَّجُلِ وَلَدَهُ الصِغَارِ سے : اس حق کا اصل الاصول تو قرآن شریف میں ہے جہاں یہ تصریح کی گئی ہے کہ نکاح میں عورت اپنے خاوند سے ایک پختہ عہد لیتی ہے دیکھو سورۃ نساء : ۲۰ تا ۲۲ اور یہ منشاء پورا نہیں ہو سکتا جب تک کہ بچپن کی شادی کی صورت میں لڑکی بالغ ہونے پر عقد نکاح کے قائم رکھنے یا ضح کرنے کا حق نہ ہو۔نیز دیکھو ترمذی ابواب النکاح باب مَا جَاءَ فِي إِكْرَاهِ الْيَتِيمَةِ عَلَى التَّزويج : سورة بقرة : ۲۲۴ نیز ترندی تفسیر سورۃ زیر آیت نِسَاءُ كُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ روایت ابن عباس