سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 698
۶۹۸ آزاد سمجھی جاتی تھی۔الغرض شادی و طلاق کے معاملہ میں عرب میں کوئی قانون نہیں تھا بلکہ سارا دارو مدار مرد کی مرضی پر تھا۔اور مرد عموماً اپنی بیویوں کے ساتھ نہایت جابرانہ سلوک کرتے تھے اور عورت کے لئے کوئی دادرسی کی جگہ نہیں تھی۔اسلام آیا تو اس نے گویا ایک نیا عالم پیدا کر دیا اور محض انتظامی فرق کے سوا کہ جو لا بدی تھا اصولاً عورت اور مرد کے مساویانہ حقوق تسلیم کئے ہے اور ان حقوق کی حفاظت و نگہداشت کا کام مرد پر نہیں چھوڑا بلکہ حکومت کے ہاتھ میں دیا اور حکومت کا یہ فرض مقرر کیا کہ وہ خاوند و بیوی کے حقوق میں ایک دوسرے کی دست درازی کورو کے اور خصوصاً ضعیف طبقہ نساء کی حفاظت کرے۔اور دوسری طرف اسلام نے اپنے روحانی اور اخلاقی اثر کے ماتحت مردوں کو یہ پر زور سفارش کی کہ وہ عورتوں کے ساتھ نہ صرف عدل و انصاف بلکہ شفقت واحسان کا معاملہ کریں اور اس معاملہ میں اسلام نے اتنا زور دیا کہ بعض صحابہ میں یہ احساس پیدا ہونے لگا کہ اسلام نے تو گویا عورت کو آزاد کر دیا ہے۔۔اسلامی قانون شادی و طلاق کا اصل الاصول یہ ہے کہ نکاح مرد وعورت کے درمیان ایک سول معاہدہ کا رنگ رکھتا ہے۔جسے گو عام معاہدات کی نسبت بہت زیادہ محبت اور وفاداری اور تقدس اور دوام کا عنصر دیا گیا ہے۔مگر انتہائی حالات میں وہ ٹوٹ بھی سکتا ہے۔اور اسی ٹوٹنے کا نام اسلامی اصطلاح میں طلاق یا خلع یا فسخ نکاح ہے۔یہ سول معاہدہ کس طرح قائم ہوسکتا اور کس طرح ٹوٹ سکتا ہے اس کے -1 متعلق اسلامی قانون کا ڈھانچہ حسب ذیل ہے۔پہلے ہم قانون شادی کو لیتے ہیں۔ا۔نکاح کرنا اسلام میں ہر اس مسلمان پر جو اس کی طاقت رکھتا ہو فرض ہے اور تبتل سے منع کیا گیا ہے۔نکاح کی اغراض تعدد ازدواج کی بحث میں دوسری جگہ مفصل بیان کی جاچکی ہیں اس جگہ اعادہ موطا امام مالک کتاب النکاح باب جَامِعُ مَا لَا يَجُوزُ مِنَ النِّكَاحِ : سورة البقرة : ۲۲۹ -۲ مسلم کتاب النکاح باب في الايلاء وابوداؤ د كتاب النکاح باب فِي ضَرْبِ النِّسَاءِ سورة بقرة : ۲۳۳ تا ۲۳۸ وسورة نساء ۲۱ ۲۲ نیز بخاری کتاب النکاح باب الشُّرُوطِ فِي النِّكَاحِ بخاری کتاب النکاح باب الشُّرُوطِ فِي النِّكَاحِ سورۃ طلاق: ۳۲ وابوداؤ د کتاب الطلاق ك سورة نساء :۲ و سورة نور : ۳۳ ۳۴ و بخارى كتاب النكاح بَابُ الترغيب في النكاح وباب مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ وَ بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ التَّبَتْلِ