سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 694
۶۹۴ وو نے اس نوحہ کی آواز سنی تو گو آپ نے اصولاً نوحہ کرنے کو پسند نہیں کیا مگر فرمایا کہ نوحہ کرنے والیاں بہت جھوٹ بولا کرتی ہیں لیکن اس وقت سعد کی ماں نے جو کچھ کہا ہے وہ سچ کہا ہے یعنی جو خو بیاں سعد میں بیان کی گئی ہیں وہ سب درست ہیں۔یہ اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ پڑھائی اور دفنانے کے لئے خود ساتھ تشریف لے گئے اور قبر کی تیاری تک وہیں ٹھہرے رہے اور آخر وہاں سے دعا کرنے کے بعد تشریف لائے۔۲ غالبا اسی دوران میں کسی موقع پر آپ نے فرمایا۔اهْتَزَّ عَرُشُ الرَّحْمَنِ لِمَوْتِ سَعْدٍ = یعنی سعد کی موت پر خدائے رحمان کا عرش جھومنے لگ گیا ہے۔یعنی عالم آخرت میں خدا کی رحمت نے خوشی کے ساتھ سعد کی روح کا استقبال کیا ہے۔ایک عرصہ کے بعد جب آپ کو کسی جگہ سے کچھ ریشمی پار چات ہدیۂ آئے تو بعض صحابہ نے انہیں دیکھ کر ان کی نرمی اور ملائمت کا بڑے تعجب کے ساتھ ذکر کیا اور اسے ایک غیر معمولی چیز جانا۔آپ نے فرمایا ” کیا تم ان کی نرمی پر تعجب کرتے ہو۔خدا کی قسم جنت میں سعد کی چادریں ان سے بہت زیادہ نرم اور بہت زیادہ اچھی ہیں۔“ ہے نعمائے جنت کی حقیقت آپ کا یہ کلام ایک استعارے کے رنگ میں تھا جس میں سعد کے اس راحت کے مقام کی طرف اشارہ کرنا مقصود تھا جو انہیں جنت میں حاصل ہوا تھا۔ورنہ جیسا کہ قرآن شریف اور احادیث سے اصولی طور پر پتا لگتا ہے جنت کی نعمتوں کا اس دنیا کی نعمتوں پر قیاس نہیں ہوسکتا اور نہ جنت کی نعمتیں ہماری اصطلاح کے لحاظ سے مادی کہلا سکتی ہیں اور حق یہی ہے کہ جو الفاظ قرآن وحدیث میں بیان ہوئے ہیں ان میں صرف استعارہ اور تشبیہ کے طور پر نعمتوں کے کمال کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے۔چنانچہ اس بارہ میں اللہ تعالیٰ اصولی طور پر فرماتا ہے۔فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ 20 یعنی کوئی شخص نہیں سمجھ سکتا کہ نیک لوگوں کے اعمال کے بدلے میں ان کے لئے جنت میں کسی قسم کا آنکھ کی ٹھنڈک کا سامان مہیا کیا گیا ہے۔اور اس کی تفسیر میں حدیث میں آتا ہے لَا عَيْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلَی قَلْبِ بَشَرٍ - 3 یعنی جنت کی نعمتیں ایسی ہیں کہ کبھی کسی انسان کی آنکھ نے انہیں نہیں دیکھا ل : زرقانی جلد ۲ صفحه ۱۴۱ بخاری ابواب مناقب انصار : سورة السجدة: ۱۸ زرقانی جلد ۲ صفحه ۱۴۱ بخاری باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ الْجَنَّةِ بخاری کتاب التفسير سورة تنزيل السجدة