سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 692 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 692

۶۹۲ کو مخاطب کر کے حضرت مسیح فرماتے ہیں :۔”اے سانپو! سانیوں کے بچو! تم جہنم کی سزا سے کیونکر بچو گے ؟ یعنی اے لوگو! تم زہریلے سانپوں کی طرح بن کر ہلاک کئے جانے کے قابل ہو گئے ہولیکن مجھے۔طاقت حاصل نہیں ہے کہ تمہیں سزا دوں مگر تم خدا سے ڈرو اور جہنم کی سزا کا ہی خیال کر کے اپنی بد کردار یوں اور شرارتوں سے باز آجاؤ۔غالباً یہی وجہ ہے کہ جب حضرت مسیح کے متبعین کو دنیا میں طاقت حاصل ہوئی تو انہوں نے حضرت مسیح کی اس تعلیم کے ماتحت کہ شریر اور بد کردار دشمن سانپوں اور بچھوؤں کی طرح ہلاک کئے جانے کے قابل ہے، جسے بھی بد کردار اور شریر سمجھا اور اپنے ارادوں میں رخنہ انداز پایا اسے ہلاک کرنے میں دریغ نہیں کیا۔چنانچہ مسیحی اقوام کی تاریخ اس قسم کی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔خلاصہ کلام یہ کہ سعد کا فیصلہ گواپنی ذات میں سخت سمجھا جاوے مگر وہ ہرگز عدل وانصاف کے خلاف نہیں تھا اور یقیناً یہود کے جرم کی نوعیت اور مسلمانوں کی حفاظت کا سوال دونوں اسی کے مقتضی تھے کہ یہی فیصلہ ہوتا اور پھر یہ فیصلہ بھی یہودی شریعت کے عین مطابق تھا بلکہ اس ابتدائی معاہدہ کے لحاظ سے ضروری تھا کہ ایسا ہی ہوتا کیونکہ اس کی رو سے مسلمان اس بات کے پابند تھے کہ یہود کے متعلق انہی کی شریعت کے مطابق فیصلہ کریں۔مگر جو کچھ بھی تھا یہ فیصلہ سعد بن معاذ کا تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نہیں تھا۔اور سعدؓ پر ہی اس کی پہلی اور آخری ذمہ داری عائد ہوتی تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق بحیثیت صدر حکومت کے اس سے صرف اس قدر تھا کہ آپ اس فیصلہ کو اپنی حکومت کے انتظام کے ماتحت جاری فرما دیں۔اور یہ بتایا جا چکا ہے کہ آپ نے اسے ایسے رنگ میں جاری فرمایا جو موجودہ زمانہ کی مہذب سے مہذب اور رحم دل سے رحم دل حکومت کے لئے بھی ایک بہترین نمونہ سمجھا جاسکتا ہے۔انصار کے رئیس اعظم کی وفات اور نعماء جنت کی حقیقت حضرت سعد بن معاذ رئیس قبیلہ اوس کی کلائی میں جو زخم غزوہ خندق کے موقع پر آیا تھا وہ با وجود بہت علاج معالجہ کے اچھا ہونے میں نہیں آتا تھا اور مندمل ہو ہو کر پھر کھل کھل جاتا تھا۔چونکہ وہ ایک بہت مخلص صحابی تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی تیمارداری کا خاص خیال تھا اس لئے آپ نے غزوہ خندق کی واپسی پر ان کے متعلق ہدایت فرمائی تھی کہ انہیں مسجد کے متی باب ۲۳ آیت ۳۳