سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 689
۶۸۹ اشتعال انگیزی اور معاندانہ پراپیگنڈا اور خفیہ اور سازشی کارروائیوں کی وجہ سے ہر مخالف اسلام تحریک کے لیڈر بننے کے لئے بے چین تھے۔تاریخ سے یہ ثابت ہے کہ یہود کے سارے قبائل میں سے بنو قریظہ اپنی عداوت میں بڑھے ہوئے تھے۔پس یقیناً بنو قریظہ کی جلا وطنی اس سے بہت زیادہ خطرات کا موجب ہو سکتی تھی جو بنونضیر نے غزوہ احزاب کو برپا کر کے مسلمانوں کے لئے پیدا کئے اور اگر مسلمان ایسا کرتے تو اس زمانہ کے حالات کے ماتحت ان کا یہ فعل ہرگز خود کشی سے کم نہ ہوتا مگر کیا دنیا کے پردے پر کوئی ایسی قوم ہے جو دشمن کو زندہ رکھنے کے لئے آپ خود کشی پر آمادہ ہوسکتی ہے؟ اگر نہیں تو یقیناً مسلمان بھی اس وجہ سے زیر الزام نہیں سمجھے جاسکتے کہ انہوں نے بنوقریظہ کو زندہ رکھنے کے لئے خودکشی کیوں نہیں کی۔پس یہ ہر دوسرا ئیں ناممکن تھیں اور ان میں سے کسی کو اختیار کرنا اپنے آپ کو یقینی تباہی میں ڈالنا تھا۔اور ان دوسزاؤں کو چھوڑ کر صرف وہی رستہ کھلا تھا جو اختیار کیا گیا۔بے شک اپنی ذات میں سعد کا فیصلہ ایک سخت فیصلہ تھا اور فطرت انسانی بظاہر اس سے ایک صدمہ محسوس کرتی ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس کے بغیر کوئی اور راستہ کھلا تھا جسے اختیار کیا جاتا۔جب ایک سرجن اپنے کسی بیمار کا جس کے لئے وہ اس قسم کا اپریشن ضروری خیال کرے ہاتھ کاٹ دیتا ہے یا ٹانگ جدا کر دیتا ہے یا کسی اور عضو کو جسم سے علیحدہ کر دینے پر مجبور ہو جاتا ہے تو ہر شریف انسان کے دل کو صدمہ پہنچتا ہے کہ اگر ایسا نہ ہوتا یعنی اگر حالات کی مجبوری اسے ضروری نہ قرار دیتی تو اچھا تھا مگر حالات کی مجبوری کے سامنے جھکنا پڑتا ہے بلکہ ایسے حالات میں سرجن کا یہ فعل قابل تعریف سمجھا جاتا ہے کہ اس نے تھوڑے یا کم قیمتی حصہ کی قربانی سے زیادہ قیمتی چیز کو بچالیا۔اسی طرح بنو قریظہ کے متعلق سعد کا فیصلہ گو اپنی ذات میں سخت تھا مگر وہ حالات کی مجبوری کا ایک لازمی نتیجہ تھا جس کے بغیر کوئی چارہ نہیں تھا۔یہی وجہ ہے کہ مارگولیس جیسا مؤرخ بھی جو ہرگز اسلام کے دوستوں میں سے نہیں ہے اس موقع پر اس اعتراف پر مجبور ہوا ہے کہ سعد کا فیصلہ حالات کی مجبوری پر مبنی تھا جس کے بغیر چارہ نہیں تھا۔چنانچہ مسٹر مار گولیس صاحب لکھتے ہیں کہ : غزوہ احزاب کا حملہ جس کے متعلق محمد صاحب کا یہ دعویٰ تھا کہ وہ محض خدائی تصرفات کے ماتحت پسپا ہوا وہ بنو نضیر ہی کی اشتعال انگیز کوششوں کا نتیجہ تھایا کم از کم یہ سمجھا جاتا تھا کہ وہ ان کی کوششوں کا نتیجہ ہے اور بنو نضیر وہ تھے جنہیں محمد صاحب نے صرف جلا وطن کر دینے پر اکتفا کی تھی۔اب سوال یہ تھا کہ کیا محمد صاحب بنو قریظہ کو بھی جلا وطن کر کے اپنے خلاف اشتعال انگیز ا زاد المعاد حالات بنو قریظہ