سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 683
۶۸۳ ازیں دوسری صحیح روایات سے معین طور پر ثابت ہے کہ ریحانہ ان قیدیوں میں سے تھی جنہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور احسان کے چھوڑ دیا تھا اور اس کے بعد ریحانہ مدینہ سے رخصت ہو کر اپنے میکے کے خاندان ( بنو نضیر ) میں چلی گئی تھی اور پھر وہیں رہی اور علامہ ابن حجر نے جو اسلام کے چوٹی کے محققین میں سے ہیں اسی روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔یا لیکن اگر یہ تسلیم بھی کیا جاوے کہ ریحانہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنی سرپرستی میں لے لیا تھا تو تب بھی یقینا وہ آپ کی بیوی تھی نہ کہ لونڈی۔چنانچہ جن مؤرخین نے ریحانہ کے متعلق یہ روایت کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی سرپرستی میں لے لیا تھا ان میں سے اکثر نے ساتھ ہی یہ صراحت کی ہے کہ آپ نے اسے آزاد کر کے اس کے ساتھ شادی کر لی تھی۔چنانچہ ابن سعد نے ایک روایت خود ریحانہ کی زبانی نقل کی ہے جس میں وہ بیان کرتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے آزاد کر دیا تھا اور پھر میرے مسلمان ہو جانے پر میرے ساتھ شادی فرمائی تھی اور میرا مہر بارہ اوقیہ مقرر ہوا تھا اور ابن سعد نے اس روایت کے مقابلہ میں اس دوسری روایت کو جس پر سر ولیم میور نے بنیادرکھی ہے صراحت کے ساتھ غلط اور خلاف واقعہ قرار دیا ہے اور لکھا ہے کہ یہی اہل علم کی تحقیق ہے۔الغرض اوّل تو جیسا کہ بخاری کی روایت سے استدلال ہوتا ہے اور اصابہ میں تصریح کی گئی ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ریحانہ کو اپنی سر پرستی میں لیا ہی نہیں بلکہ اسے آزاد کر دیا تھا۔جس کے بعد وہ اپنے خاندان میں جا کر آباد ہو گئی تھی۔دوسرے اگر اس روایت کو تسلیم بھی کیا جاوے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی سرپرستی میں لے لیا تھا تو تب بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آزاد کر کے اس کے ساتھ شادی فرمائی تھی اور اسے لونڈی کے طور پر نہیں رکھا۔علاوہ ازیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ ریحانہ کے نام اور حسب نسب اور قبیلہ وغیرہ کے متعلق روایات میں اس قدر اختلاف ہے تا کہ اس کے وجود ہی کے متعلق شبہ کرنا غالباً غیر معقول نہیں سمجھا جا سکتا۔خصوصاً جبکہ اس بات کو مدنظر رکھا جاوے کہ اسے ایک ایسے شخص کی بیوی کہا جاتا ہے جو دنیا میں یقینا سب سے زیادہ تاریخی شخص ہے واللہ اعلم۔اصابه جلده اصفحه ۵۹۳ ذکر ریحانه دیکھو ابن سعد جلد ۸ صفحه ۹۳ حالات ریحانه وزرقانی جلد ۲ صفحه ۱۳۷ : زرقانی جلد ۳ صفحه ۲۸۴٬۲۸۳