سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 680
۶۸۰ مکانات میں جمع کر دیا گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے ماتحت صحابہ نے (جن میں سے غالباً کئی لوگ خود بھو کے رہے ہوں گے ) بنو قریظہ کے کھانے کے لئے ڈھیروں ڈھیر پھل مہیا کیا اور لکھا ہے کہ یہودی لوگ رات بھر پھل نوشی میں مصروف رہے۔دوسرے دن صبح کو سعد بن معاذ کے فیصلہ کا اجرا ہونا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چند مستعد آدمی اس کام کی سرانجام دہی کے لئے مقرر فرمادے اور خود بھی قریب ہی ایک جگہ میں تشریف فرما ہو گئے۔تا کہ اگر فیصلہ کے اجرا کے دوران میں کوئی بات ایسی پیدا ہو جس میں آپ کی ہدایت کی ضرورت ہو تو آپ بلا توقف ہدایت دے سکیں نیز یہ کہ اگر کسی مجرم کے متعلق کسی شخص کی طرف سے رحم کی اپیل ہو تو اس میں آپ فوراً فیصلہ صادر فرماسکیں کیونکہ گوسعد کے فیصلہ کی اپیل عدالتی رنگ میں آپ کے سامنے پیش نہیں ہو سکتی تھی مگر ایک بادشاہ یا صدر جمہوریت کی حیثیت میں آپ کسی فرد کے متعلق کسی خاص وجہ کی بنا پر رحم کی اپیل ضرورسن سکتے تھے۔آپ نے بتقاضائے رحم یہ بھی حکم صادر فرمایا کہ مجرموں کو ایک ایک کر کے علیحدہ علیحد قتل کیا جاوے۔یعنی ایک کے قتل کے وقت دوسرے مجرم پاس موجود نہ ہوں۔چنانچہ ایک ایک مجرم کو الگ الگ لایا گیا۔اور بموجب فیصلہ سعد بن معاذ قتل کیا گیا۔جب حی بن اخطب رئیس بنو نضیر آیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ کر کہنے لگا کہ ”اے محمد مجھے یہ افسوس نہیں ہے کہ میں نے تمہاری مخالفت کیوں کی لیکن بات یہ ہے کہ جو خدا کو چھوڑتا ہے خدا بھی اسے چھوڑ دیتا ہے۔پھر لوگوں کی طرف دیکھ کر کہنے لگا’ خدا کے حکم کے آگے کوئی چارہ نہیں ہے۔یہ اسی کا حکم اور اسی کی تقدیر ہے۔جب کعب بن اسد رئیس قریظہ کو میدان قتل میں لایا گیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اشارہ مسلمان ہو جانے کی تحریک کی۔اس نے کہا اے ابو القاسم ! میں مسلمان تو ہو جا تا مگر لوگ کہیں گے موت سے ڈر گیا۔پس مجھے یہودی مذہب پر ہی مرنے دو۔ایک شخص زبیر بن باطیا روسائے قریظہ میں سے تھا۔اس نے ایک مسلمان ثابت بن قیس نامی پر کسی زمانہ میں کوئی احسان کیا تھا۔ثابت نے اس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سفارش کی کہ اسے چھوڑ دیا جاوے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” بہت اچھا! اسے چھوڑ دو۔‘ ثابت نے جا کر زبیر کوخوشخبری دی کہ تجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے میری سفارش پر چھوڑ دیا ہے۔زبیر نے کہا زرقانی جلد ۲ صفحه ۱۳۶ ،، زرقانی جلد ۲ صفحه ۱۳۶ 966 : ابن ہشام وابن سعد و طبری طبری وابن ہشام سيرة حلبیہ حالات غزوہ قریظہ