سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 681 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 681

۶۸۱ میرے بیوی بچے تو قید میں ہیں میں قتل سے بچ کر کیا کروں گا۔ثابت پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور کہا کہ زبیر یوں کہتا ہے۔آپ نے فرمایا اس کے بیوی بچوں کو بھی آزاد کر دو۔“ ثابت نے جا کر ز بیر کو پھر خوشخبری دی۔جس پر اس نے کہا میرا مال تو مسلمانوں کے قبضہ میں جاچکا ہے میں صرف بیوی بچوں کو لے کر کیا کروں گا۔ثابت نے پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا اور آپ نے زبیر کے مال کے بھی واپس دئے جانے کا حکم دے دیا۔اب ثابت بہت خوش خوش زبیر کے پاس گیا کہ لواب تمہارا مال بھی تمہیں واپس مل جائے گا۔اس نے کہا یہ بتاؤ کہ ہمارے سردار کعب بن اسد اور یہودان عرب کے رئیس حی بن اخطب کا کیا حال ہے۔ثابت نے کہا کہ وہ تو قتل کئے جاچکے۔اس نے کہا جب یہ لوگ قتل ہو گئے تو پھر میں نے زندہ رہ کر کیا کرنا ہے۔چنانچہ مقتل میں گیا اور تلوار کے سامنے اپنی گردن رکھ دی۔ایک اور یہودی رفاعہ نامی تھا اس نے ایک رحم دل مسلمان خاتون کی منت سماجت کر کے اسے اپنی سفارش میں کھڑا کر لیا۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسلمان خاتون کی سفارش پر رفاعہ کو بھی معاف فرما دیا۔غرض اس وقت جس شخص کی بھی سفارش آپ کے پاس کی گئی آپ نے اسے فور أمعاف کر دیا جو اس بات کی دلیل ہے کہ آپ سعد کے فیصلہ کی وجہ سے مجبور تھے ورنہ آپ کا قلبی میلان ان کے قتل کئے جانے کی طرف نہیں تھا۔مقتولین میں ایک یہودی عورت بھی تھی۔جس نے محاصرہ کے وقت قلعہ پر سے ایک پتھر گرا کر ایک مسلمان کو شہید کیا تھا۔پس چونکہ اس نے اس باغیانہ جنگ میں عملی حصہ لیا تھا اور سعد کا یہ فیصلہ تھا کہ جنگ میں حصہ لینے والوں کو قتل کیا جاوے اور چونکہ اس عورت کی طرف سے اپنی غداری اور بغاوت اور فعل قتل کے متعلق اظہار ندامت بھی نہیں ہوا اور نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کوئی رحم کی اپیل ہوئی اس لئے اسے بھی سعد کے حکم کے مطابق مقتل میں لا کر قتل کیا گیا۔غرض اس طرح کم و بیش چار سو آدمی اس دن سعد کے فیصلہ کے مطابق قتل کئے گئے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو حکم دے کر ان مقتولین کو اپنے انتظام میں دفن کر وا دیا۔طبری وابن ہشام : ابن ہشام بنو قریظہ جہاں سعد کے فیصلہ میں مقاتل یعنی جنگ میں حصہ لینے والا کا لفظ استعمال ہوا ہے۔طبری وابن ہشام : دیکھو صحیح بخاری حالات ۵: ترمذی ابواب الجهاد والسیر وابن ہشام فی ذکر ا مر محیصہ وحویصتہ