سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 677
722 کارروائیوں کی وجہ سے ان کے لئے اپنے دل میں کوئی رحم نہیں پاتا تھا اور جو گو عدل وانصاف کا مجسمہ تھا مگر اس کے قلب میں رحمۃ للعالمین کی سی شفقت اور رافت نہیں تھی۔تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ قبیلہ اوس بنوقریظہ کا قدیم حلیف تھا اور اس زمانہ میں اس قبیلہ کے رئیس سعد بن معاذ تھے جو غزوہ خندق میں زخمی ہو کر اب مسجد کے صحن میں زیر علاج تھے۔اس قدیم جتھہ داری کا خیال کرتے ہوئے بنوقریظہ نے کہا کہ ہم سعد بن معاذ کو اپنا حکم مانتے ہیں۔جو فیصلہ بھی وہ ہمارے متعلق کریں وہ ہمیں منظور ہوگا۔لیکن یہود میں بعض ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے اس قومی فیصلہ کو صحیح نہیں سمجھتے تھے اور اپنے آپ کو مجرم یقین کرتے تھے اور دل میں اسلام کی صداقت کے قائل ہو چکے تھے۔ایسے لوگوں میں سے بعض آدمی جن کی تعداد تاریخی روایات میں تین بیان ہوئی ہے بطیب خاطر اسلام قبول کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حلقہ بگوشوں میں داخل ہو گئے۔ایک اور شخص تھا وہ مسلمان تو نہیں ہوا مگر وہ اپنی قوم کی غداری پر اس قدر شرمندہ تھا کہ جب بنوقریظہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ کرنے کی ٹھانی تو وہ یہ کہتا ہوا کہ ” میری قوم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سخت غداری کی ہے میں اس غداری میں شامل نہیں ہوسکتا۔مدینہ چھوڑ کر کہیں باہر چلا گیا تھا کے مگر باقی قوم آخر تک اپنی ضد پر قائم رہی اور سعد کو اپنا ثالث بنانے پر اصرار کیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے منظور فرمایا۔اور اس کے بعد آپ نے چند انصاری صحابیوں کو سعد کے لانے کے لئے روانہ فرمایا۔سعد سوار ہو کر آئے اور راستہ میں قبیلہ اوس کے بعض لوگوں نے ان سے اصرار کے ساتھ اور بار بار یہ درخواست کی کہ قریظہ ہمارے حلیف ہیں جس طرح خزرج نے اپنے حلیف قبیلہ بنو قینقاع کے ساتھ نرمی کی تھی تم بھی قریظہ سے رعایت کا معاملہ کرنا اور انہیں سخت سزا نہ دینا۔سعد بن معاذ پہلے تو خاموشی کے ساتھ ان کی باتیں سنتے رہے ،لیکن جب ان کی طرف سے زیادہ اصرار ہونے لگا تو سعد نے کہا کہ یہ وہ وقت ہے کہ سعد اس وقت حق وانصاف کے معاملہ میں کسی ملامت گر کی ملامت کی پروا نہیں کر سکتا۔" یہ جواب سن کر لوگ خاموش ہو گئے۔جب سعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچے تو آپ نے صحابہ سے فرمایا قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمُ یعنی اپنے رئیس کے لئے اٹھو اور سواری سے نیچے اترنے میں انہیں مدد دو۔“ جب سعد سواری سے اتر کر ابن ہشام وطبری و ابن سعد نیز بخاری کتاب المغازی حالات غزوہ قریظہ ابن ہشام و بخاری کتاب المغازی باب خبر النضیر : طبری صفحه ۱۴۹۲ 66 : طبرانی صفحه ۱۴۹۰