سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 676
۶۷۶ ماننے سے بھی انکار کر دیا اور کہا کہ آگے ہی ہماری قوم سبت کی بے حرمتی کی وجہ سے مسخ کی جاچکی ہے پس اب ہم مزید بے حرمتی کر کے اپنی تباہی کا خود بیج نہیں ہو سکتے۔اس طرح کعب کی ساری تجاویز رد ہوگئیں اور معاملہ وہیں کا وہیں رہا۔آخر جب بنو قریظہ محاصرہ کی سختی سے تنگ آگئے تو انہوں نے یہ تجویز کی کہ کسی ایسے مسلمان کو جوان سے تعلقات رکھتا ہو اور اپنی سادگی کی وجہ سے ان کے داؤ میں آسکتا ہو اپنے قلعہ میں بلائیں اور اس سے یہ پتہ لگانے کی کوشش کریں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کے متعلق کیا ارادہ ہے تا کہ وہ اس کی روشنی میں آئندہ طریق عمل تجویز کرسکیں۔چنانچہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ایلچی روانہ کر کے یہ درخواست کی کہ ابولبابہ بن منذر انصاری کو ان کے قلعہ میں بھجوایا جاوے تا کہ وہ اس سے مشورہ کر سکیں۔آپ نے ابولبابہ کو اجازت دی اور وہ ان کے قلعہ میں چلے گئے۔اب رؤساء بنو قریظہ نے یہ تجویز کی ہوئی تھی کہ جو نہی کہ ابولبابہ قلعہ کے اندر داخل ہو سب یہودی عورتیں اور بچے روتے اور چلاتے ہوئے ان کے اردگرد جمع ہو جائیں اور اپنی مصیبت اور تکلیف کا ان کے دل پر پورا پورا اثر پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔چنانچہ ابولبابہ پر یہ داؤ چل گیا اور وہ قلعہ میں جاتے ہی ان کی مصیبت کا شکار ہو گئے اور بنو قریظہ کے اس سوال پر کہ اے ابولبابہ تو ہمارا حال دیکھ رہا ہے کیا ہم محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے فیصلہ پر اپنے قلعوں سے اتر آویں۔ابولبابہ نے بے ساختہ جواب دیا ”ہاں“ مگر ساتھ ہی اپنے گلے پر ہاتھ پھیر کر اشارہ کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے قتل کا حکم دیں گے۔حالانکہ یہ بالکل غلط تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قطعاً کوئی ایسا ارادہ ظاہر نہیں کیا تھا مگر ان کی مصیبت کے مظاہرہ سے متاثر ہو کر ابولبابہ کا خیال آلام و مصائب کی رو میں ایسا بہا کہ موت سے ورے ورے نہیں ٹھہرا اور ابولبابہ کی یہ غلط ہمدردی (جس کی وجہ سے وہ بعد میں خود بھی نادم ہوئے اور اس ندامت میں انہوں نے اپنے آپ کو جا کر مسجد کے ایک ستون سے باندھ دیا حتی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں معاف کرتے ہوئے خود جا کر انہیں کھولا) بنو قریظہ کی تباہی کا باعث بن گئی اور وہ اس بات پر ضد کر کے جم گئے کہ ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ پر نہیں اتریں گے ہے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جنگ جاری رہی اور آخر کم و بیش بیس دن کے محاصرہ کے بعد یہ بد بخت یہود ایک ایسے شخص کو حکم مان کر اپنے قلعوں سے اترنے پر رضا مند ہوئے جو باوجود ان کا حلیف ہونے کے ان کی ل ابن ہشام و نیز طبری صفحه ۷ ۱۴۸، ۱۳۸۸ : طبری صفحه ۱۴۸۸، ۱۴۹۰،۱۳۸۹ و میس جلد اصفحه ۵۵۶