سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 675
۶۷۵ آپ کے ساتھ تھی۔جب آپ بنو قریظہ کے قلعوں کے قریب پہنچے تو حضرت علی نے جو تھوڑی دور تک آپ کے استقبال کے لئے واپس آگئے تھے آپ سے عرض کیا کہ 'یا رسول اللہ ! میرے خیال میں آپ کو خود آگے تشریف لے جانے کی ضرورت نہیں ہے ہم لوگ انشاء اللہ کافی ہوں گے۔آپ سمجھ گئے اور فرمانے لگے ” کیا بنوقریظہ نے میرے متعلق کوئی بدزبانی کی ہے؟“ حضرت علی نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا۔خیر ہے چلو قَدْ اُوْذِى مُوسَى بِاَكْثَرَ مِنْ هَذَا۔یعنی " موسیٰ کو ان لوگوں کی طرف سے اس سے بھی زیادہ تکالیف پہنچی تھیں۔غرض آپ آگے بڑھے اور بنو قریظہ کے ایک کنوئیں پر پہنچ کر ڈیرہ ڈال دیا۔کے شروع شروع میں تو یہودی لوگ سخت تمرد اور غرور ظاہر کرتے رہے حتی کہ چند مسلمان جو ان کے قلعہ کی دیوار کے پاس ہو کر ذرا آرام کرنے بیٹھے تھے ان پر ایک یہودی عورت بناتہ نامی نے قلعہ کے اوپر سے ایک بھاری پتھر پھینک کر ان میں سے ایک آدمی خلاد نامی کو شہید کر دیا اور باقی مسلمان بچ گئے " لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا ان کو محاصرہ کی سختی اور اپنی بے بسی کا احساس ہونا شروع ہوا اور بالآخر انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اب کیا کرنا چاہئے۔اس مشورہ میں ان کے رئیس کعب بن اسد نے ان کے سامنے تین تجاویز پیش کیں اور کہا کہ ان میں سے جو بھی تمہیں پسند ہوا سے اختیار کرلو۔پہلی تجویز یہ ہے، کہ ہم محمد پر ایمان لا کر مسلمان ہو جائیں کیونکہ اگر سچ پوچھا جاوے تو محمد کی صداقت عیاں ہو چکی ہے اور ہماری کتب میں بھی اس کی تصدیق پائی جاتی ہے اور جب ہم مسلمان ہو جائیں گے تو لازماً یہ جنگ رک جائے گی۔مگر لوگوں نے اس تجویز کو سختی کے ساتھ رد کر دیا اور کہا ہم ایسا کبھی نہیں کریں گے۔جس پر کعب نے کہا کہ ”پھر میرا دوسرا مشورہ یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں اور عورتوں کو قتل کر دیں اور پھر عواقب کی طرف سے بے فکر ہوکر تلوار میں لیں اور میدان میں نکل جائیں اور پھر جو ہو سو ہو۔لوگوں نے کہا یہ بھی ہمیں منظور نہیں کیونکہ بچوں اور عورتوں کو مار کر ہماری زندگی کیا رہے گی۔کعب نے جواب دیا کہ اچھا اگر یہ بھی منظور نہیں تو میری آخری تجویز یہ ہے کہ آج سبت کی رات ہے اور محمد اور اس کے اصحاب آج اپنے آپ کو ہماری طرف سے امن میں سمجھتے ہوں گے پس آج رات ہم قلعہ سے نکل کر محمد اور اس کے ساتھیوں پر شب خون ماریں اور بعید نہیں کہ ان کی غفلت کی وجہ سے ہم انہیں مغلوب کرلیں۔“ مگر بنوقریظہ نے اس تجویز کے : حضرت علی کا منشاء یہ تھا کہ آپ کو بنو قریظہ کی گالیاں سن کر خواہ نخواہ ملال ہو گا اس لئے آپ نہ جائیں تو بہتر ہے ابن سعد جلد ۲ صفحه ۵۶،۵۵ خمیس جلد اصفحه ۵۵۹ وطبری ۱۵۰۱ ابن ہشام