سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 674
۶۷۴ بنو قریظہ کی غداری اور مدینہ میں یہود کا خاتمہ قانون شادی و طلاق غزوہ بنوقریظہ ذوقعده ۵ ہجری مطابق مارچ واپریل ۶۲۷ء جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ خندق سے فارغ ہو کر شہر میں واپس تشریف لائے تو ابھی آپ بمشکل ہتھیار وغیرہ اتار کر نہانے دھونے سے فارغ ہی ہوئے تھے کہ آپ کو خدا کی طرف سے کشفی رنگ میں یہ بتایا گیا کہ جب تک بنو قریظہ کی غداری اور بغاوت کا فیصلہ نہ ہو جاتا آپ کو ہتھیار نہیں اتارنے چاہئے تھے اور پھر آپ کو یہ ہدایت دی گئی کہ آپ بلا تو قف بنوقریظہ کی طرف روانہ ہو جائیں۔اس پر آپ نے صحابہ میں عام اعلان کروا دیا کہ سب لوگ بنوقریظہ کے قلعوں کی طرف روانہ ہو جا ئیں اور نماز عصر وہیں پہنچ کر ادا کی جاوے۔اور آپ نے حضرت علیؓ کو صحابہ کے ایک دستے کے ساتھ فوراً آگے روانہ کر دیا۔جب حضرت علی وہاں پہنچے تو بجائے اس کے کہ بنو قریظہ (جن میں غزوہ خندق کے بعد بنونضیر کا رئیس اعظم اور فتنہ کا بانی مبانی حیی بن اخطب بھی اپنے وعدہ کے مطابق آکر شامل ہو گیا تھا ) اپنی غداری و بغاوت پر اظہار ندامت کر کے عفو ورحم کے طالب بنتے انہوں نے برملا طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیں۔اور کمال بے حیائی اور کمینگی کے طریق پر ازواج مطہرات کے متعلق بھی نہایت ناگوار بد زبانی کی۔حضرت علی اور ان کے دستے کے روانہ ہو چکنے کے تھوڑی دیر بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی مسلح ہو کر مدینہ سے روانہ ہوئے۔اس وقت آپ ایک گھوڑے پر سوار تھے اور صحابہ کی ایک بڑی جماعت بخاری کتاب المغازی حالات غزوہ قریظہ ہے : ابن ہشام وطبری : سيرة حلبيه