سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 670 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 670

۶۷۰ اپنے اونٹ پر سوار ہو گیا مگر گھبراہٹ کا یہ عالم تھا کہ اونٹ کے پاؤں کھولنے یاد نہ رہے اور سوار ہونے کے بعد اونٹ کے حرکت نہ کرنے سے یاد آیا کہ اونٹ کے پاؤں ابھی تک نہیں کھولے گئے۔اس وقت عکرمہ بن ابو جہل ابوسفیان کے پاس کھڑا تھا اس نے کسی قدر تلخی سے کہا کہ ابوسفیان !تم امیر العسکر ہوکر لشکر کو چھوڑ کر بھاگے جارہے ہو اور تمہیں دوسروں کا خیال تک نہیں ہے۔اس پر ابوسفیان شرمندہ ہوا اور اونٹ سے اتر کر کہنے لگا لو میں ابھی نہیں جاتا مگر تم لوگ جلدی تیاری کرو اور جس قدر جلد ممکن ہو یہاں سے نکل چلو چنانچہ لوگ جلد جلد تیاری میں لگ گئے اور ابوسفیان تھوڑی دیر کے بعد اپنے اونٹ پر سوار ہوکر واپس روانہ ہو گیا۔اس وقت تک بنو غطفان اور دوسرے قبائل کو قریش کے اس فرار کا علم تک نہیں تھا۔مگر جب قریش کا کیمپ سرعت کے ساتھ خالی ہونا شروع ہوا تو دوسروں کو بھی اس کی اطلاع ہوئی جس پر انہوں نے بھی گھبرا کر کوچ کا اعلان کر دیا۔اور بنو قریظہ بھی اپنے قلعوں کے اندر چلے گئے۔" اور بنو قریظہ کے ساتھ بنو نضیر کا رئیس حیی بن اخطب بھی ان کے قلعوں میں چلا آیا۔اور اس طرح صبح کی سفیدی نمودار ہونے سے پہلے پہلے سارا میدان خالی ہو گیا اور ایک فوری اور محیر العقول تغیر کے طور پر مسلمان مفتوح ہوتے ہوتے فاتح بن گئے۔اسی رات جبکہ کفار اس طرح خود بخود میدان جنگ سے بھاگ رہے تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اردگرد کے صحابہ کو مخاطب فرما کر آواز دی کہ تم میں سے کوئی ہے جواس وقت جائے اور لشکر کفار کا حال معلوم کرے؟ لیکن صحابہ روایت کرتے ہیں کہ اس وقت سردی کی اس قدر شدت تھی اور پھر خوف اور تھکان اور بھوک کا یہ عالم تھا کہ ہم میں سے کوئی شخص اپنے اندر یہ طاقت نہیں پاتا تھا کہ جواب میں کچھ عرض کر سکے یا اپنی جگہ سے حرکت کرے۔آخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود نام لے کر حذیفہ بن یمان کو بلایا۔جس پر وہ سردی سے ٹھٹھرتے ہوئے اٹھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر کھڑے ہو گئے۔آپ نے کمال شفقت سے ان کے سر پر اپنا ہاتھ پھیرا اور ان کے لئے دعائے خیر فرمائی اور فرمایا تم بالکل ڈرو نہیں اور اطمینان رکھو انشاء اللہ تمہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی۔بس تم چپکے چپکے کفار سے ابن ہشام : سيرة حلبيه ابن ہشام حالات غزوہ بنو قریظہ ل ابن ہشام وابن سعد و طبری : خمیس وزرقانی مسلم كتاب الجهاد کے ابن ہشام وطبری مسلم حالات غزوہ خندق زرقانی جلد ۲ صفحه ۱۱۸ میس جلد اصفحه ۵۵۲