سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 665 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 665

تکلیف اور پریشانی اور خطرے کے دن تھے اور جوں جوں یہ محاصرہ لمبا ہوتا جاتا تھا مسلمانوں کی طاقت مقابلہ لازماً کمزور ہوتی جاتی تھی اور گوان کے دل ایمان واخلاص سے پر تھے مگر جسم جو مادی قانون اسباب کے ماتحت چلتا ہے مشتعل ہوتا چلا جار ہا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان حالات کو دیکھا تو آپ نے انصار کے رؤساء سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ کو بلا کر انہیں سارے حالات جتلائے اور مشورہ مانگا کہ ان حالات میں ہمیں کیا کرنا چاہئے اور ساتھ ہی اپنی طرف سے یہ ذکر فرمایا کہ اگر تم لوگ چا ہو تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ قبیلہ غطفان کو مدینہ کے محاصل میں سے کچھ حصہ دینا کر کے اس جنگ کو ٹال دیا جاوے۔سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ نے یک زبان ہو کر عرض کیا کہ 'یا رسول اللہ ! اگر آپ کو اس بارہ میں کوئی خدائی وحی ہوئی ہے تو سرتسلیم خم ہے اس صورت میں آپ بے شک خوشی سے اس تجویز کے مطابق کارروائی فرمائیں۔آپ نے فرمایا ”نہیں نہیں مجھے اس معاملہ میں وحی کوئی نہیں ہوئی میں تو صرف آپ لوگوں کی تکلیف کی وجہ سے مشورہ کے طریق پر پوچھتا ہوں۔سعدین نے جواب دیا کہ پھر ہمارا یہ مشورہ ہے کہ جب ہم نے شرک کی حالت میں کبھی کسی دشمن کو کچھ نہیں دیا تو اب مسلمان ہو کر کیوں دیں۔واللہ ہم انہیں تلوار کی دھار کے سوا کچھ نہیں دیں گے۔چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو انصار ہی کی وجہ سے فکر تھا جو مدینہ کے اصل باشندہ تھے اور غالبا اس مشورہ میں آپ کا مقصد بھی صرف یہی تھا کہ انصار کی ذہنی کیفیت کا پتہ لگا ئیں کہ کیا وہ ان مصائب میں پریشان تو نہیں ہیں۔اور اگر وہ پریشان ہوں تو ان کی دلجوئی ،، فرمائیں۔اس لئے آپ نے پوری خوشی کے ساتھ ان کے اس مشورہ کو قبول فرمایا اور جنگ جاری رہی۔جنگ کے دوران میں مسلسل مصروفیت اور پریشانی کی وجہ سے صحابہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کئی کئی وقت کا فاقہ بھی ہو جاتا تھا۔چنانچہ ایک دن بعض صحابہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے فاقہ کشی کی شکایت کی اور عرض کیا کہ ہم کئی دن سے اپنے پیٹوں پر پتھر باندھے پھرتے ہیں۔اس پر آپ نے اپنے شکم مبارک پر سے کپڑا ہٹا کر دکھایا تو دو پتھر باندھے ہوئے تھے۔یہ ان فاقہ کشیوں کے ساتھ جنگ کے دوسرے مصائب نے مل کر مسلمانوں کے لئے نہایت تکلیف دہ حالات پیدا کر ر کھے تھے اور ہر وقت کے خطرے کے اندیشے کی وجہ سے جو اثر ان کے دل و دماغ اور اعصاب پر پڑتا تھا وہ مزید براں تھا۔اور طبعا اس مصیبت کا سب سے زیادہ بوجھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر تھا۔چنانچہ ام سلمہ روایت کرتی ہیں کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بہت سے غزوات میں رہی ہوں لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ے ابن ہشام وابن سعد و زرقانی ترمذی ابواب الزہد