سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 664
۶۶۴ تاریخ میں یہ لڑائی بڑی تفصیل کے ساتھ بیان ہوئی ہے اور اس کے بعض حصے نہایت دلچسپ ہیں۔دراصل عمر و ایک نہایت نامور شمشیر زن تھا اور اپنی بہادری کی وجہ سے اکیلا ہی ایک ہزار سپاہی کے برابر سمجھا جاتا تھا۔اور چونکہ وہ بدر کے موقع پر خائب و خاسر ہو کر واپس گیا تھا اس لئے اس کا سینہ مسلمانوں کے خلاف بغض وانتقام کے جذبات سے بھرا ہوا تھا۔اس نے میدان میں آتے ہی نہایت مغرورانہ لہجے میں مبارز طلبی کی بعض صحابہ اس کے مقابلہ سے کتراتے تھے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے حضرت علی اس کے مقابلہ کے لئے آگے نکلے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تلوار ان کو عنایت فرمائی اور ان کے واسطے دعا کی ہے حضرت علی نے آگے بڑھ کر عمرو سے کہا۔میں نے سنا ہے کہ تم نے یہ عہد کیا ہوا ہے کہ اگر قریش میں سے کوئی شخص تم سے دو باتوں کی درخواست کرے گا تو تم ان میں سے ایک بات ضرور مان لو گے۔عمرو نے کہا۔ہاں، حضرت علی نے کہا تو پھر میں پہلی بات تم سے یہ کہتا ہوں کہ مسلمان ہو جاؤ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مان کر خدائی انعامات کے وارث بنو عمرو نے کہا یہ نہیں ہوسکتا۔حضرت علی نے کہا۔اگر یہ بات منظور نہیں ہے تو پھر آؤ میرے ساتھ لڑنے کو تیار ہو جاؤ۔اس پر عمر و ہنسنے لگ گیا اور کہنے لگا میں نہیں سمجھتا تھا کہ کوئی شخص مجھ سے یہ الفاظ کہ سکتا ہے۔پھر اس نے حضرت علی کا نام ونسب پوچھا اور ان کے كم بتانے پر کہنے لگا " بھیجے اتم ابھی بچے ہو۔میں تمہارا خون نہیں گرانا چاہتا اپنے بڑوں میں سے کسی کو بھیجو۔کے حضرت علی نے کہا تم میرا خون نہیں گرانا چاہتے مگر مجھے تمہارا خون گرانے میں تامل نہیں ہے۔اس پر عمر و جوش میں اندھا ہو کر اپنے گھوڑے سے کود پڑا اور اس کی کونچیں کاٹ کر اسے نیچے گراد یا اور پھر ایک آگ کے شعلہ کی طرح دیوانہ وار حضرت علی کی طرف بڑھا اور اس زور سے حضرت علی پر تلوار چلائی کہ وہ ان کی ڈھال کو قلم کرتی ہوئی ان کی پیشانی پر لگی۔اور انہیں کسی قدر زخمی کیا مگر ساتھ ہی حضرت علی نے الله اَكْبَرُ کا نعرہ لگاتے ہوئے ایسا وار کیا کہ وہ اپنے آپ کو بچا تارہ گیا اور حضرت علی کی تلوار سے شانے پر سے کاٹتی ہوئی نیچے اتر گئی اور عمرو تر پتا ہوا گرا اور جان دے دی۔لیکن اس جزوی اور وقتی غلبہ کا عام لڑائی پر کوئی اثر نہیں تھا۔اور یہ دن مسلمانوں کے لئے نہایت خمیس جلد ا صفحه ۵۴۷ : ابن سعد جلد ۲ صفحه ۴۹ کے خمیس جلد اصفحہ ۵۴۷ وزرقانی : ابن ہشام ۳ : خمیس جلد اصفحه ۵۴۸ ابن ہشام زرقانی جلد ۲ صفحه ۱۱۴ ابن ہشام خمیس وزرقانی وابن ہشام