سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 660
۶۶۰ ہو کر ان کو ملیا میٹ کر دیں۔شہر میں مسلمانوں کے پہلو میں غدار بنو قریظہ تھے جن کے سینکڑوں مسلح نوجوان اپنی ذات میں ایک جری لشکر سے کم نہ تھے اور جو جس وقت چاہتے یا موقع پاتے عقب کی طرف سے مسلمانوں پر حملہ آور ہو سکتے تھے۔اور مسلمان خواتین اور بچے جو شہر میں تھے وہ تو گویا ہر وقت ان کا شکار ہی تھے۔اس صورت حال نے جس کی حقیقت کسی سمجھ دار شخص پر مخفی نہیں رہ سکتی تھی کمزور مسلمانوں میں سخت پریشانی اور سراسیمگی پیدا کردی اور منافق طبع لوگ تو برملا کہنے لگے کہ مَا وَعَدَنَا اللهُ وَرَسُوْلُةَ إِلَّا غُرُورًا یعنی معلوم ہوتا ہے کہ خدا اوراس کے رسول کے وعدے مسلمانوں کی فتح و کامرانی کے متعلق یونہی جھوٹے ہی تھے۔بعض منافقین نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو ہو کر یہ کہنا شروع کیا کہ یا رسول اللہ ! شہر میں ہمارے مکانات بالکل غیر محفوظ ہیں آپ اجازت دیں تو ہم اپنے گھروں میں ٹھہر کر ان کی حفاظت کریں۔جس کے جواب میں خدائی وحی نازل ہوئی کہ وَمَاهِيَ بِعَوْرَةٍ إِنْ تُرِيدُونَ إِلَّا فِرَارًان یعنی ” یہ غلط ہے کہ ان لوگوں کو اپنے گھروں کے غیر محفوظ ہونے کا خیال ہے بلکہ بات یہ ہے کہ وہ میدان کارزار سے بھاگنے کی راہ ڈھونڈ رہے ہیں۔مگر یہی وقت مخلص مسلمانوں کے ایمان کے اظہار کا تھا۔چنانچہ قرآن فرماتا ہے وَلَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُونَ الْأَحْزَابَ قَالُوا هَذَا مَا وَعَدَنَا اللهُ وَرَسُولُهُ وَصَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ " دو وَمَا زَادَهُمْ إِلَّا إِيْمَانًا وَتَسْلِيْمانی ” جب مومنوں نے کفار کے اس لا ولشکر کو دیکھا تو انہوں نے کہا کہ یہ تو سب کچھ خدا اور اس کے رسول کے وعدوں کے مطابق ہے اور خدا اور رسول ضرور بچے ہیں۔پس اس حملہ سے بھی ان کے ایمان و تسلیم میں زیادتی ہی ہوئی مگر موقع کی نزاکت اور حالات کے خطرناک پہلو کا سب کو یکساں احساس تھا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِذْ جَاءُ وَكُمْ مِنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُّنُوْنَا هُنَالِكَ ابْتِلَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَزُلْزِلُوا زِلْزَ الَّا شَدِيدًا CO یعنی یاد کرو جبکہ کفار کا لشکر تمہارے اوپر اور تمہارے نیچے کی طرف سے ہجوم کر کے تم پر آ گیا۔جبکہ گھبراہٹ میں تمہاری آنکھیں پتھرانے لگیں اور کلیجے منہ کو آنے لگے اور تم لوگ اپنے اپنے رنگ میں یعنی کوئی کسی رنگ میں اور کوئی کسی رنگ میں ) خدا کے متعلق مختلف خیالات میں پڑ گئے۔وہ وقت واقعی مومنوں کے لئے ایک سخت امتحان کا وقت تھا اور : سورۃ احزاب: ۱۳ : سورۃ احزاب : ۱۲،۱۱: ے : سورۃ احزاب: ۱۴ : سورۃ احزاب: ۲۳