سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 659 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 659

۶۵۹ گھیرا ڈال لیا اور خندق کے کمزور حصوں سے فائدہ اٹھانے کا موقع تلاش کرنے لگ گئے۔اس کے علاوہ ابوسفیان نے یہ چال چلی کہ قبیلہ بنو نضیر کے یہودی رئیس حیی بن اخطب کو یہ ہدایت دی کہ وہ رات کی تاریکی کے پردے میں بنو قریظہ کے قلعہ کی طرف جاوے اور ان کے رئیس کعب بن اسد کے ساتھ مل کر بنو قریظہ کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرے یا چنانچہ حی بن اخطب موقع لگا کر کعب کے مکان پر پہنچا۔شروع شروع میں تو کعب نے اس کی بات سننے سے انکار کیا اور کہا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ساتھ ہمارے عہد و پیمان ہیں اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے ہمیشہ اپنے عہد و پیمان کو وفاداری کے ساتھ نبھایا ہے اس لئے میں اس سے غداری نہیں کر سکتا۔مگر حی نے اسے ایسے سبز باغ دکھائے اور اسلام کی عنقریب تباہی کا ایسا یقین دلایا اور اپنے اس عہد کو کہ جب تک ہم اسلام کو مٹا نہ لیں گے مدینہ سے واپس نہیں جائیں گے اس شد ومد سے بیان کیا کہ بالآخر وہ راضی ہو گیا۔اور اس طرح بنو قریظہ کی طاقت کا وزن بھی اس پلڑے کے وزن میں آکر شامل ہو گیا جو پہلے سے ہی بہت جھکا ہوا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بنو قریظہ کی اس خطرناک غداری کا علم ہوا تو آپ نے پہلے تو دو تین دفعہ خفیہ خفیہ زبیر بن العوام کو دریافت حالات کے لئے بھیجا۔اور پھر باضابطہ طور پر قبیلہ اوس وخزرج کے رئیس سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ اور بعض دوسرے با اثر صحابہ کو ایک وفد کے طور پر بنوقریظہ کی طرف روانہ فرمایا اور ان کو یہ تاکید فرمائی کہ اگر کوئی تشویشناک خبر ہو تو واپس آکر اس کا برملا اظہار نہ کریں بلکہ اشارہ کنایہ سے کام لیں تاکہ لوگوں میں تشویش نہ پیدا ہو۔جب یہ لوگ بنو قریظہ کے مساکن میں پہنچے اور ان کے رئیس کعب بن اسد کے پاس گئے تو وہ بد بخت ان کو نہایت مغرورانہ انداز سے ملا۔اور سعدین کی طرف سے معاہدہ کا ذکر ہونے پر وہ اور اس کے قبیلہ کے لوگ بگڑ کر بولے کہ ” جاؤ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ہمارے درمیان کوئی معاہدہ نہیں ہے۔یہ الفاظ سن کر صحابہ کا یہ وفد وہاں سے اٹھ کر چلا آیا اور سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر مناسب طریق پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حالات سے اطلاع دی ہے۔اس وقت مدینہ کا مطلع ظاہری اسباب کے لحاظ سے سخت تاریک و تار تھا۔شہر کے چاروں طرف ہزارہا خونخوار دشمن ڈیرہ ڈالے پڑے تھے جو ہر وقت اس تاک میں تھے کہ کوئی موقع ملے تو مسلمانوں پر حملہ آور ابن سعد ابن ہشام بخاری حالات غزوہ خندق نیز زرقانی جلد ۲ صفحه ۱۱۹ ابن ہشام