سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 658
۶۵۸ نہ ہو کہ جو ایمان بالغیب کے اصول کے خلاف سمجھا جاسکے ورنہ نتیجہ یہ ہوگا کہ غلط اور بناوٹی قصے صحیح تاریخ کا حصہ قرار پا کر حقیقت کو بالکل مستور کردیں گے اور دنیا میں معجزات وخوارق کا ایک غلط مفہوم قائم ہو جائے گا جو بجائے ہدایت کا باعث ہونے کے ضلالت و گمراہی کا موجب بن جائے گا۔اس مختصر اور ضمنی نوٹ کے بعد ہم اپنے اصل مضمون کی طرف لوٹتے ہیں۔غزوہ خندق کے بقیہ حالات کم و بیش ہیں ایام یا ایک روایت کی رو سے چھ شبانہ روزے کی مسلسل محنت سے یہ طویل خندق تکمیل کو پہنچی۔اور اس غیر معمولی محنت و مشقت نے صحابہ کو بالکل نڈھال کر دیا۔مگر ادھر یہ کام اختتام کو پہنچا اور ادھر یہود اور مشرکین عرب کا لا ولشکر اپنی تعداد اور طاقت کے نشہ میں مخمور افق مدینہ میں نمودار ہو گیا۔سب سے پہلے ابوسفیان نے اُحد کی پہاڑی کی طرف رخ کیا مگر اس جگہ کو ویران و سنسان پا کر وہ مدینہ کی اس سمت کو بڑھا جو شہر پر حملہ کرنے کے لئے موزوں تھی مگر اس کے سامنے اب خندق کھودی گئی تھی۔جب کفار کا لشکر اس جگہ پہنچا تو خندق کو اپنے رستہ میں حائل پا کر سب لوگ حیران و پریشان ہو گئے اور اس بات پر مجبور ہوئے کہ خندق کے پار کھلے میدان میں ڈیرے ڈال دیں۔دوسری طرف لشکر کفار کی آمد آمد کی خبر پا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی تین ہزار مسلمانوں کو ساتھ لے کر شہر سے نکلے اور خندق کے پاس پہنچ کر شہر اور خندق کے درمیان سلع پہاڑی کو اپنے عقب میں رکھتے ہوئے ڈیرے ڈال دئے۔اور چونکہ خندق زیادہ فراخ نہیں تھی اور بعض حصے یقیناً ایسے تھے کہ مضبوط اور ہوشیار سوار انہیں پھاند کر شہر کی طرف آ سکتے تھے۔اور پھر مدینہ کے وہ اطراف جہاں خندق نہیں تھی اور صرف مکانات اور باغات اور بے ترتیب چٹانوں کی روک تھی ان کی حفاظت بھی ضروری تھی تا کہ دشمن اس طرف سے مکانوں کو نقصان پہنچا کر یا کسی اور حکمت سے تھوڑے تھوڑے آدمیوں کی لائنوں میں ہو کر شہر پر حملہ آور نہ ہو جاوے اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو مختلف دستوں میں منقسم کر کے خندق کے مختلف حصوں پر اور مدینہ کی دوسری اطراف میں مناسب جگہوں پر پہرے کی چوکیاں مقرر فرما دیں اور تاکید فرمائی کہ دن ہو یا رات کسی وقت میں یہ پہرہ ست یا غافل نہ ہونے پائے کے دوسری طرف جب کفار نے یہ دیکھا کہ بوجہ خندق کی روک کے کھلے میدان کی با قاعدہ لڑائی یا شہر پر عام دھاوے کا حملہ ناممکن ہو گئے ہیں تو انہوں نے بھی محاصرہ کے رنگ میں مدینہ کا موسی بن عقبہ بروایت زرقانی جلد ۲ صفحہ ۱۱۰ : ابن ہشام ابن سعد ابن سعد وزرقانی