سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 657
تقدیر عام کے ذریعہ سے نہیں ہوتا۔کیونکہ بسا اوقات آیات کا ظہور اس رنگ میں بھی ہوتا ہے کہ چند تقادیر عام غیر معمولی طور پر ایک جگہ جمع ہو جاتی ہیں یا چند تقادیر عام ایک غیر معمولی ترتیب کے ساتھ رونما ہوتی ہیں اور اس غیر معمولی اجتماع یا غیر معمولی ترتیب کے نتیجہ میں ایک رنگ آیت و معجزہ کا پیدا ہو جاتا ہے۔مگر یہ ایک وسیع اور نازک مضمون ہے جس کے تفصیلی بیان کی اس جگہ گنجائش نہیں۔خلاصہ کلام یہ کہ آیات و معجزات کا سلسلہ برحق ہے اور ہمیشہ سے چلا آیا ہے اور جابر بن عبداللہ کی دعوت کا واقعہ اسی مقدس سلسلہ کی ایک کڑی ہے اور چونکہ یہ معجزہ صرف مومنین کو دکھایا گیا تھا اس لئے سنت اللہ کے ماتحت اس میں اخفا کا پر وہ نسبتا کم تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے مطالعہ سے پتہ لگتا ہے کہ یہ واقعہ ایک منفرد واقعہ نہیں ہے بلکہ آپ کی زندگی میں اس قسم کے بہت سے واقعات پائے جاتے ہیں جو صحیح روایات سے ثابت ہیں اور انشاء اللہ ان میں سے بعض آگے چل کر اپنے موقع پر بیان کئے جائیں گے مگر یہ یاد رکھنا چاہئے کہ جیسا کہ معجزات کی غرض و غایت سے ظاہر ہے اور جیسا کہ قرآن شریف کی متعدد آیات سے بھی ثبوت ملتا ہے معجزات میں رسول کی ذات صرف ایک ذریعہ اور واسطہ ہوتی ہے اور اصل متصرف ہستی خدا کی ہوتی ہے یعنی ایسا نہیں ہوتا کہ ایک رسول جب اور جس طرح چاہے اپنی مرضی سے کوئی معجزہ دکھاوے بلکہ معجزات کا معاملہ صرف خدا کی مرضی اور مصلحت پر موقوف ہوتا ہے۔وہ جب اور جس طرح چاہتا ہے اپنے کسی رسول کے ذریعہ سے معجزات کا اظہار فرماتا ہے اور گو رسول کی توجہ اور دعا معجزات کی جاذب اور محرک ضرور ہوتی ہے مگر حکم خدا کی طرف سے آتا ہے اور اس کی مخفی قدرت رسول کے اندر سے ہو کر اپنا کام کرتی ہے اور جب خدا کا حکم نہ ہو تو رسول کی ذاتی طاقت کوئی معجزہ پیدا نہیں کر سکتی اور ظاہر ہے کہ خدا کا حکم بھی ہوتا ہے جب کوئی حقیقی ضرورت اور حقیقی مصلحت اس کی متقاضی ہوتی ہے۔اس جگہ یہ بیان کرنا بھی ضروری ہے کہ چونکہ معجزات کے متعلق عموماً جھوٹی اور بناوٹی روایات یا مبالغہ آمیز باتیں بھی کثرت کے ساتھ مشہور ہو جایا کرتی ہیں۔اس لئے اس معاملہ میں روایات کے قبول کرنے میں بڑی احتیاط سے کام لینا چاہئے اور صرف ان روایات کو قبول کرنا چاہئے جو اصول روایت و درایت کے مطابق صحیح ثابت ہوں اور ان اصولی شرائط کے مطابق پوری اتریں جو ہم نے اوپر بیان کی ہیں یعنی اصول شہادت کے لحاظ سے وہ قابل اعتماد ہوں وہ خدا کی کسی سنت یا وعدے یا صفت کے خلاف نہ ہوں۔ان میں انسانی علم اور انسانی قدرت سے کوئی بالا چیز پائی جاتی ہو اور ان میں اخفا کا پردہ اس قدر کم