سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 648
۶۴۸ مطابق فروری و مارچ ۶۲۷ء میں مدینہ کی طرف بڑھنا شروع ہوا۔لے اتنے بڑے لشکر کی نقل و حرکت کا مخفی رکھنا کفار کے لئے مشکل تھا اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جاسوسی کا انتظام بھی نہایت پختہ تھا۔چنانچہ ابھی قریش کا لشکر مکہ سے نکلا ہی تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی خبر پہنچ گئی۔جس پر آپ نے صحابہ کو جمع کر کے اس کے متعلق مشورہ فرمایا۔اس مشورہ میں ایران کے ایک مخلص صحابی سلمان فارسی بھی شریک تھے جن کے اسلام لانے کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔چونکہ سلمان فارسی عجمی طریق جنگ سے واقف تھے انہوں نے یہ مشورہ پیش کیا کہ مدینہ کے غیر محفوظ حصہ کے سامنے ایک لمبی اور گہری خندق کھود کر اپنے آپ کو محفوظ کر لیا جاوے۔خندق کا خیال عربوں کے لئے بالکل نیا تھا، لیکن یہ معلوم کر کے کہ یہ طریق جنگ دیار عجم میں عام طور پر کامیابی کے ساتھ رائج ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تجویز کو منظور فرمایا۔اور چونکہ مدینہ کا شہر تین طرف سے ایک حد تک محفوظ تھا یعنی مکانات کی مسلسل دیواروں اور گھنے درختوں اور چٹانوں کے سلسلے کی وجہ سے یہ اطراف لشکر کفار کے اچانک حملہ سے محفوظ تھیں اور صرف شامی طرف ایسی تھی جہاں دشمن ہجوم کر کے مدینہ پر حملہ آور ہوسکتا تھا اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غیر محفوظ طرف میں خندق کے کھودے جانے کا حکم دیا۔کے اور آپ نے خود اپنی نگرانی میں موقع پر نشان لگا کر تقسیم کار کے اصول کے ماتحت خندق کو دس دس ہاتھ یعنی پندرہ پندرہ فٹ کے ٹکڑوں میں تقسیم کر کے ہر ٹکڑہ دس دس صحابیوں کے سپرد فرما دیا۔ان پارٹیوں کی تقسیم میں یہ خوشگوا را ختلاف رونما ہوا کہ سلمان فارسی کس گروہ میں شمار ہوں۔آیا وہ مہاجر سمجھے جائیں یا بوجہ اس کے کہ وہ اسلام کی آمد سے پہلے ہی مدینہ میں آئے ہوئے تھے انصار میں شمار ہوں۔بوجہ اس کے کہ سلمان اس طریق جنگ کے محرک تھے اور ویسے بھی ایک مستعد اور باوجود بوڑھے ہونے کے مضبوط آدمی تھے ہر فرقہ ان کو اپنے ساتھ ملانا چاہتا تھا۔آخر یہ اختلاف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوا اور آپ نے فریقین کے دعاوی سن کر مسکراتے ہوئے فرمایا کہ سلمان دونوں میں سے نہیں ہے بلکہ سَلْمَانُ مِنَّا اَهْلَ الْبَيْتِ یعنی ” سلمان میرے اہل بیت میں شمار کئے جائیں۔‘ ۵ اس وقت سے سلمان کو یہ شرف حاصل ہو گیا کہ وہ گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے آدمی سمجھے جانے لگے۔ابن ہشام طبری وابن سعد و روض الانف تاریخ خمیس و زرقانی بیہقی بحوالہ فتح الباری جلدے صفحہ ۳۰۵ د: طبری