سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 644 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 644

۶۴۴ اور اس احسان کا یہ نتیجہ ہوا کہ بنو مصطلق کے لوگ بہت جلد اسلام کی تعلیم سے متاثر ہوکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حلقہ بگوشوں میں داخل ہو گئے۔برة کا نام بدلنے میں یہ حکمت تھی کہ چونکہ بڑۃ کے معنی نیکی کے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ پسند نہیں فرماتے تھے کہ کبھی جب برق گھر میں نہ ہوں اور کوئی شخص ان کے متعلق یہ دریافت کرے کہ آیا برة گھر میں ہیں یا نہیں تو اسے یہ جواب ملے کہ برق گھر میں نہیں ہے جس کے بظاہر یہ معنی ہیں کہ گویا نیکی اور برکت گھر سے اٹھ گئی ہے۔یہ ایک بہت چھوٹی سی بات ہے مگر اس سے اس محبت پر بہت روشنی پڑتی ہے جو نیکی اور طہارت کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے قلب میں رکھتے تھے۔حضرت جویریہ کی شادی کے متعلق ایک روایت یہ بھی آتی ہے کہ جب ان کے والد انہیں چھڑانے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ کے فیض صحبت سے مسلمان ہو گئے اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے پیغام ملنے پر انہوں نے خود برضا و رغبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنی لڑکی کی شادی کر دی ہے اور ایک روایت میں یہ ہے کہ جویریہ کے والد حارث نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر کہا کہ میں سردار قوم ہوں میری لڑکی اس طرح قید میں نہیں رکھی جاسکتی۔آپ نے فرمایا کہ جویریہ سے پوچھا جاوے اگر وہ آزاد ہو کر واپس جانا چاہے تو ہم اسے چھوڑ دیتے ہیں اور اگر ہمارے پاس ٹھہرنا چاہے تو ہمارے پاس ٹھہرے۔جو یہ یہ سے پوچھا گیا تو اس نے مسلمان ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہنا پسند کیا جس پر آپ نے اسے آزادکر کے اس کے ساتھ شادی فرمالی۔کے عزل یعنی برتھ کنٹرول کی اجازت اس غزوہ یعنی غزوہ بنو مصطلق میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض صحابہ کے دریافت کرنے پر عزل یعنی برتھ کنٹرول کے متعلق فرمایا کہ میں اسے ناجائز نہیں کہتا۔یعنی بالفاظ دیگر آپ نے اس بات کو جائز قرار دیا کہ کوئی شخص کسی ضرورت و مصلحت سے کوئی ایسی تدبیر اختیار کرے کہ اس کی بیوی کو اس کی مجامعت سے حمل نہ ٹھہرے۔ابن سعد جلد ۸ حالات جویریہ اصابه جلده احالات جویریہ : زرقانی جلد ۳ حالات جویریہ نیز ابن ہشام جلد ۳ حالات ازواج بخاری حالات غزوہ بنو مصطلق و موطا امام مالک و ترندی باب ماجاء في العزل